حدیث

مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن زيد بن خالد الجُهني رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تَسُبُّوا الدِّيْك فإنه يُوْقِظ للصلاة».

ترجمہ

زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے“۔

تشریح

زید بن خالد الجُہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرغے کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ سوئے ہوئے کو اپنی بانگ سے نماز کے لیے جگاتا ہے۔ اور امام احمد اور امام نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ ( مرغ) نماز کے لیے آگاہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے گالی دینے سے منع فرمایا، اس لیے کہ لوگوں کو نماز کے لیے جگانا ایک ظاہری مصلحت ہے کہ وہ نیکی کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے اور جو نیکی میں مدد کرتا ہے وہ تعریف کا حقدار ہوتا ہے مذمت کا نہیں۔ مرغے کی بہت عجیب صفت یہ ہے کہ وہ رات کے اوقات جانتا ہے اور فجر سے پہلے نیز اس کے بعد بانگ دیتا رہتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے مرغے کی اس طرف رہنمائی فرمائی۔

تشریح: العربية

يخبر زيد بن خالد الجُهني رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن سَبِّ الدِّيْك وعلل لذلك؛ بأنه يُوقظ النائم بصياحه لأجل الصلاة، وفي رواية عند أحمد والنسائي : " يؤذن للصلاة "؛ ولهذا نهى صلى الله عليه وسلم عن سَبِّه؛ لأن في إيقاظهم مصلحة ظاهرة، وهي إعانتهم على طاعة ومن أعان على طاعة، فإنه يستحق المَدْح لا الذَّم. ومن أعظم ما في الديك من العجائب معرفة الأوقات الليلية، والصياح عندها، ويوالي صياحه قبل الفجر وبعده، فسبحان من هداه لذلك.

  • النهي عن سَبِّ الدِّيْك؛ لأنه يُوقظ النائمين للصلاة.
  • كراهة التَّضَجُّر من صِيَاح الدِّيْك، وسماع صوته.
  • من شأن المسلم أن يرغب في كل ما يعينه.
  • تسخير الله عز وجل بعض مخلوقاته للإنسان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید