يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 23

    فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وه زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں [1] اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لیے وبال ہونے والی ہے [2]دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلادیں گے.

    حواشی

    [1] یہ انسان کی ناشکری کی عادت کا ذکر ہے جس کا تذکرہ ابھی آیت 12 میں بھی گزرا، اور قرآن میں اور بھی متعدد مقامات پر اللہ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ [2] اللہ تعالٰی نے فرمایا، تم یہ ناشکری اور سرکشی کرلو، چار روزہ متاع زندگی سے فائدہ اٹھا کر بالآخر تمہیں ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر تمہیں، جو کچھ تم کرتے رہے ہو گے، بتلائیں گے یعنی ان پر سزا دیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 22 - 23 کی تفسیر

    [23,22] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُؔكُمْ فِی الْـبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ ’’وہی ہے جو تمھیں چلاتا ہے خشکی اور سمندر میں ‘‘ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمھیں مہیا کیے ہیں اور ان کی طرف تمھاری راہ نمائی فرمائی ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ﴾ ’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو‘‘ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ﴾ ’’اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے‘‘ یعنی وہ ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے۔ ﴿وَّفَرِحُوْا بِهَا ﴾ ’’اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے‘‘ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ ﴾ ’’اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے۔‘‘ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی ﴿ وَّجَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُ٘لِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ﴾ ’’اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انھوں نے جان لیا کہ وہ گھر گئے‘‘ یعنی انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﴾ ’’وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں ‘‘ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَىِٕنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰؔذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ ﴾ ’’اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہو جائیں گے۔‘‘ ﴿ فَلَمَّاۤ اَنْجٰؔىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ﴾ ’’پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔‘‘ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انھوں نے اپنے اوپر لازم کیے تھے، فراموش کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انھیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کر سکتی ہے۔ پس انھوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انھوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انھیں پر پڑے گا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّؔتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا﴾ ’’اے لوگو! تمھاری شرارت تمھی پر پڑے گی، نفع اٹھا لو دنیا کی زندگانی کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے سرکشی و بغاوت اور اس کے لیے اخلاص سے دور بھاگنے میں ان کی غرض و غایت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند ٹکڑے اور اس کا مال و جاہ اور معمولی سے فوائد حاصل ہوں جو بہت جلد ختم ہو جائیں گے، سب کچھ ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تم اسے چھوڑ کر یہاں سے کوچ کر جاؤ گے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ ﴾ ’’پھر ہمارے پاس ہی تمھیں لوٹ کر آنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴾ ’’پھر ہم تمھیں بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے‘‘ اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کو ان کے اپنے ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید