يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

    تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعده کر رکھا ہے۔ بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے۔[1]

    حواشی

    [1] اس آیت میں قیامت کے وقوع، بارگاہ الٰہی میں سب کی حاضری اور جزا سزا کا بیان ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں مختلف اسلوب سے متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 4 کی تفسیر

    [4] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم کونی و قدری، یعنی تدبیر عام اور اپنے حکم دینی یعنی اپنی شریعت، جس کا مضمون اور مقصود صرف اسی کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں ، کا ذکر فرمایا تو اپنے حکم جزائی کا ذکر بھی فرمایا، یعنی انسان کے مرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کی جزا دینا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا﴾ ’’اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے‘‘ یعنی وہ تمھارے مرنے کے بعد ایک مقررہ وقت پر تم سب کو جمع کرے گا ﴿ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا ہونا لابدی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ﴾ ’’وہی پیدا کرتا ہے پہلی بار، پھر دوبارہ پیدا کرے گا اس کو‘‘ پس جو تخلیق کی ابتدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اس کے اعادے پر بھی قادر ہے، لہٰذا وہ شخص جو ابتدائے تخلیق کو تسلیم کرتا ہے پھر وہ اعادۂ تخلیق کا انکار کر دیتا ہے، عقل سے عاری ہے جو دو مماثل اشیاء میں سے ایک کا انکار کرتا ہے حالانکہ وہ اس تخلیق کا اقرار کر چکا ہے جو زیادہ مشکل ہے... یہ زندگی بعد موت کی نہایت واضح عقلی دلیل ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقلی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ ’’تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے‘‘ جو صدق دل سے ان تمام امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل کیے نیک‘‘ وہ اپنے جوارح کے ذریعے سے واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ بِالْقِسْطِ﴾ ’’انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ ان کے ایمان و اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ جزا اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دی ہے اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ یہ ایسی جزا ہے کہ کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ اس جزا میں اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ ﴿ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسول کی تکذیب کی۔ ﴿ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ﴾ ’’ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی ہوگا۔‘‘ جو چہروں کو جھلسا کر رکھ دے گا اور انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ﴿ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾ ’’اور دردناک عذاب‘‘ انھیں دردناک عذاب کی تمام اصناف میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿ بِمَا كَانُوْا یَكْ٘فُرُوْنَؔ ﴾ ’’اس لیے کہ وہ کفر کرتے تھے‘‘ یعنی یہ عذاب ان کے کفر اور ظلم کے سبب سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید