يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 51

    أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ

    کیا پھر جب وه آہی پڑے گا اس پر ایمان لاؤ گے۔ ہاں اب مانا[1] ! حاﻻنکہ تم اس کی جلدی مچایا کرتے تھے.

    حواشی

    [1] لیکن عذاب آنے کے بعد ماننے کا کیا فائدہ؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 51 کی تفسیر

    [51] ﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَ٘عَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ﴾ ’’کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہو چکے گا، تب اس پر تم ایمان لاؤ گے؟‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس حال میں جبکہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں ، عتاب اور زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿آٰلْـٰٔنَ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو؟ ﴿ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ﴾ تم تو اس عذاب کے لیے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہو جاتا ہے تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا: ﴿اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ (یونس: 10؍90) ’’میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ تو اس کو جواب دیا گیا: ﴿ آٰلْـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَؔكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ﴾ (یونس: 10؍91) ’’اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَ٘اْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ﴾ (المومن: 40؍85) ’’پس جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَ٘عَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْـٰٔنَ ﴾ ’’کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے؟ (تو کہا جائے گا) اب تم‘‘ ( ایمان کا دعویٰ کرتے ہو؟) ﴿ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ﴾’’اسی کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ یہ ہے تمھارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ، جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید