يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 68

    قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَـٰنَهُۥ ۖ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ۖ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَـٰنٍۭ بِهَـٰذَآ ۚ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

    وه کہتے ہیں کہ اللہ اوﻻد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وه تو کسی کا محتاج نہیں [1] اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے[2]۔ تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے.

    حواشی

    [1] اور جو کسی کا محتاج نہ ہو، اسے اولاد کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اولاد تو سہارے کے لئے ہوتی ہے اور جب وہ سہارے کا محتاج نہیں تو پھر اسے اولاد کی کیا ضرورت؟ [2] جب آسمان اور زمین کی ہرچیز اسی کی ہے تو ہرچیز اسی کی مملوک اور غلام ہوئی۔ پھر اسے اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اولاد کی ضرورت تو اسے ہوتی ہے، جسے کچھ مدد اور سہارے کی ضرورت ہو، جس کا حکم آسمان و زمین کی ہر چیز پر چلتا ہو، اسے کیا ضرورت لاحق ہوسکتی ہے؟ علاوہ ازیں اولاد کی ضرورت وہ شخص بھی محسوس کرتا ہے جو اپنے بعد مملوکات کا وارث دیکھنا یا پسند کرتا ہے۔ اور اللہ تعالٰی کی ذات کو تو فنا ہی نہیں اس لئے اللہ کے لئے اولاد قرار دینا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: «تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا، أَن دَعَوۡاْ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٗا» (مريم: 90-91). ”اس بات سے کہ وہ کہتے ہیں رحمٰن کی اولاد ہے، قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 68 کی تفسیر

    [68] اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کی بہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’انھوں نے کہا، ٹھہرا لی ہے اللہ نے اولاد‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ سُبْحٰؔنَهٗ﴾ ’’وہ پاک ہے۔‘‘ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلند و برتر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کیے ہیں : (۱) ﴿ هُوَ الْغَنِیُّ﴾ ’’وہ بے نیاز ہے‘‘ یعنی غنا (بے نیازی) اسی میں منحصر ہے اور غنا کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو، ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے غنائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ کس لیے بیٹا بنائے گا؟ کیا اس وجہ سے کہ وہ بیٹے کا محتاج ہے؟ یہ تو اس کے غنا اور بے نیازی کے منافی ہے۔ کوئی شخص صرف اپنے غنا میں نقص کی بنا پر بیٹا بناتا ہے۔ (۲) دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ﴾ ’’جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔‘‘ یہ عام اور جامع کلمہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات اس کی ملکیت سے خارج نہیں ، تمام موجودات اس کی مخلوق، اس کے بندے اور مملوک ہیں اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ یہ وصف عام اس بات کے منافی ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوگا جو مخلوق ہوگا نہ مملوک۔ پس آسمانوں اور زمین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا ولادت (اولاد ہونے) کے منافی ہے۔ (۳) تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭؔ بِهٰؔذَا﴾ ’’تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ۔‘‘ یعنی تمھارے پاس تمھارے اس دعوی پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اسے ضرور پیش کرتے۔ جب انھیں دلیل پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور وہ دلیل قائم کرنے سے عاجز آگئے تو ان کے دعوے کا بطلان ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کا قول بلا علم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَؔ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے‘‘ پس بلاعلم اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 68 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید