يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَـٰتِنَا غَـٰفِلُونَ

    جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے اور وه دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 کی تفسیر

    [7] ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ﴾ ’’جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے ہیں جو سب سے بڑی خواہش اور سب سے بڑی آرزو ہے بلکہ وہ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی تکذیب کرتے ہیں ﴿وَرَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﴾ ’’اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں ۔‘‘ یعنی وہ آخرت کی بجائے دنیا پر راضی ہوگئے۔ ﴿ وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا ﴾ ’’اور اسی پر مطمئن ہو گئے‘‘ یعنی دنیا کی طرف مائل ہو گئے اور اسی کو اپنی منزل اور اسی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ دنیا کے حصول کے لیے کوشاں رہے، اس کی لذات و شہوات پر ٹوٹ پڑے۔ دنیا انھیں جس طریقے سے بھی حاصل ہوئی، انھوں نے اسے حاصل کر لیا۔ دنیا کی چمک انھیں جہاں کہیں بھی دکھائی دی یہ اس کی طرف لپکے۔ انھوں نے اپنے ارادوں اور نیتوں کو دنیا ہی میں مصروف رکھا، ان کے افکار و اعمال دنیا ہی کے محور پر گھومتے رہے۔ گویا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور گویا کہ دنیا ایک گزرگاہ نہیں جہاں سے مسافر زاد راہ اکٹھا کر کے ہمیشہ رہنے والی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ۔ اولین و آخرین اس منزل کی نعمتوں اور لذتوں کی طرف کوچ کرتے ہیں اور لپکنے والے انھی کی طرف لپکتے ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ﴾ ’’اور وہ ہماری آیتوں سے غافل ہیں ‘‘ پس یہ آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دلیل سے روگردانی درحقیقت مدلول مقصود سے روگردانی اور غفلت کو مستلزم ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید