يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 75

    ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَـٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَـٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ

    پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو[1] ، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا[2]۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے.[3]

    حواشی

    [1] رسولوں کے عمومی ذکر کے بعد، حضرت موسیٰ و ہارون علیہا اسلام کا ذکر کیا جا رہا ہے، درآنحالیکہ رسول کے تحت میں وہ بھی آجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا شمار جلیل القدر رسولوں میں ہوتا ہے اس لئے خصوصی طور پر ان کا الگ ذکر فرما دیا۔ [2] حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے معجزات، بالخصوص نو آیات بینات، جن کا ذکر اللہ نے سورت نبی اسرائیل آیت 101میں کیا ہے۔ مشہور ہیں۔ [3] لیکن چونکہ وہ بڑے بڑے جرائم اور گناہوں کے عادی تھے۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کے ساتھ بھی استکبار کا معاملہ کیا۔ کیونکہ ایک گناہ، دوسرے گناہ کا ذریعہ بنتا اور گناہوں پر اصرار بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جرأت پیدا کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 75 کی تفسیر

    [75] ﴿ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ ﴿ مُّوْسٰؔى﴾ اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمرانu کو، جو ایک اولوالعزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کیے گئے۔ ﴿ وَهٰؔرُوْنَ﴾ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونu کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ ﴿ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡؔىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ یعنی فرعون، اس کے اکابرین اور رؤسا سلطنت کی طرف کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں ﴿ بِاٰیٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے، یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ ﴿ فَاسْتَكْبَرُوْا﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا ﴿ وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴾ ’’اور وہ گناہ گار لوگ تھے‘‘ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 75 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید