يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 78

    قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ

    وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے [1] اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے.

    حواشی

    [1] یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء واجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انہیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورہ اعراف میں گزرا اور سورہ طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 78 کی تفسیر

    [78] ﴿ قَالُوْۤا﴾ انھوں نے موسیٰu کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّؔا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا﴾ ’’کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ مثلاً: شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمیں حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چنانچہ انھوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰu لے کر آئے تھے۔ ﴿وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ﴾ ’’اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے۔‘‘ یعنی تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلاف حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰu کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔ جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کر سکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہین ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کر دیا جائے تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مدمقابل کے قول کو رد کر دے کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور اپنے مدمقابل کو یہ نہ کہتا ’’تیرا مقصد یہ ہے‘‘ اور ’’تیری مراد وہ ہے‘‘ خواہ وہ اپنے مدمقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا... تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰu کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰu کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء و مرسلین کا تھا... یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا ﴿ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ﴾ ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے‘‘ یعنی انھوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ’’ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارونu نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی اور ارادۂ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰu پر لگا رہے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 78 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید