يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَـٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَـٰرُ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ

    یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کا رب ان کو ان کے ایمان کے سبب ان کے مقصد تک پہنچا دے گا[1] نعمت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔

    حواشی

    [1] اس کے ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ دنیا میں ایمان کے سبب قیامت والے دن اللہ تعالٰی ان کے لئے پل صراط سے گزرنا آسان فرما دے گا، اس صورت میں یہ ”با“ سببیت کے لئے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ استعانت کے لئے ہے اور معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالٰی قیامت والے دن ان کے لئے ایک نور مہیا فرمائے گا جس کی روشنی میں وہ چلیں گے، جیسا کہ سورہ حدید میں اس کا ذکر آتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 9 کی تفسیر

    [9] ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی انھوں نے ایمان اور ایمان کے تقاضے کو جمع کیا یعنی ایمان لانے کے بعد اخلاص اور اتباع کے ساتھ اعمال صالحہ بجا لائے جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِـاِیْمَانِهِمْ ﴾ ’’ہدایت کرے گا ان کو ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سرمایۂ ایمان کے سبب سے انھیں سب سے بڑا ثواب یعنی ہدایت عطا کرتا ہے۔ انھیں وہ علم عطا کرتا ہے جو ان کے لیے نفع مند ہے، وہ انھیں ان اعمال سے نوازتا ہے جو ہدایت سے جنم لیتے ہیں ۔ وہ اپنی آیات میں غور و فکر کرنے کے لیے ان کی راہ نمائی کرتا ہے، اس دنیا میں انھیں راہ راست دکھاتا ہے اور آخرت میں ان کو اس راستے پر گامزن کرتا ہے جو جنت کو جاتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْ٘هٰرُ ﴾ ’’ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیشہ بہنے والی نہریں ﴿ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ﴾ ’’نعمت والے باغوں میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے جنت کو (نَعِیم) ’’نعمتوں والی‘‘ کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ جنت ہر طرح سے کامل نعمتوں پر مشتمل ہوگی۔ قلب کو فرحت و سرور، تروتازگی، اللہ رحمن کا دیدار، اس کے کلام کا سماع، اس کی رضا اور قرب کے حصول کی خوشی، دوستوں اور بھائیوں سے ملاقاتوں ، ان کے ساتھ اکٹھے ہونے، طرب انگیز آوازوں ، مسحور کن نغمات اور خوش کن مناظر کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ بدن کو مختلف انواع کے ماکولات و مشروبات اور بیویاں وغیرہ عطا ہوں گی جو انسان کے علم سے باہر ہیں جن کے بارے میں انسان تصور تک نہیں کر سکتا اور نہ کوئی اس کا وصف بیان کر سکتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید