يونس

یونس

109 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 94

    فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

    پھر اگر آپ اس کی طرف سے شک میں ہوں جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھیے جو آپ سے پہلی کتابوں کو پڑھتے ہیں۔ بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آئی ہے۔ آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں.[1]

    حواشی

    [1] یہ خطاب یا تو عام انسانوں کو ہے یا پھر نبی کے واسطے سے امت کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ کیونکہ نبی کو تو وحی کے بارے میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جو کتاب پڑھتے ہیں، ان سے پوچھ لیں ' کا مطلب ہے کہ قرآن مجید سے پہلے کی آسمانی کتابیں (تورات و انجیل وغیرہ) یعنی جن کے پاس یہ کتابیں موجود ہیں ان سے اس قرآن کی بابت معلوم کریں کیونکہ ان میں اس کی نشانیاں اور آخری پیغمبر کی صفات بیان کی گئی ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 94 کی تفسیر

    [94] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیe سے فرماتا ہے: ﴿ فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ﴾ ’’اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا‘‘ کہ آیا یہ صحیح ہے یا غیر صحیح ہے؟ ﴿ فَسْـَٔلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ﴾ ’’تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ‘‘ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھیے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور وہ یہ بھی اعتراف کریں گے وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہe کی تکذیب کی، آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کی گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب متعدد پہلوؤں سے دیا جاتا ہے۔ (۱) جب شہادت کی اضافت کسی گروہ، کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں ، ان کی شہادت معتبر نہیں کیونکہ شہادت، عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا، مثلاً:عبداللہ بن سلامt اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرمe اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔ (۲) رسول اللہe کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت دراصل ان کی کتاب تورات، جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ، کے بیان پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو، تب اگر اولین و آخرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہو جائیں تو ان کا یہ انکار رسول اللہe کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں ۔ (۳) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولe کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہe کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا تو وہ ضرور اسے پیش کرتے چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لیے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ (۴) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنھوں نے رسول اللہe کی دعوت کو رد کر دیا ہو بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنھوں نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا تھا اور انھوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی کیونکہ جب رسول اللہe مبعوث ہوئے تو روئے زمین پر اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام، مصر، عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے، یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنھوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی، نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنھوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے، مثلاً:فرنگی، جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں وہ صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل پر ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں ۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جانتے ہیں ۔ ﴿ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ﴾’’تحقیق آ گیا آپ کے پاس حق‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ﴿ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَؔكُ٘نْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّؔنْهُ ﴾ (الاعراف:7؍2) ’’یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 94 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتہودهود

غلطی کی اطلاع دیں

مزید