القارعة

قارعہ

11 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    نَارٌ حَامِيَةٌۢ

    وه تند وتیز آگ (ہے).[1]

    حواشی

    [1] جس طرح حدیث میں ہے کہ انسان دنیامیں جو آگ جلاتا ہے، یہ جہنم کی آگ کا ستر واں حصہ ہے، جہنم کی اگ دنیا کی آگ سے 69 درجہ زیادہ ہے۔ (صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق ، باب صفة النار وأنها مخلوقة ، مسلم كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم ) ایک اور حدیث میں ہے کہ ( آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت فرما دی۔ ایک سانس گرمی اور ایک سانس سردی میں پس جو سخت سردی ہوتی ہے یہ اس کا ٹھنڈا سانس ہے۔ اور نہایت سخت گرمی جو پڑتی ہے، وہ جہنم کا گرم سانس ہے)۔ (بخاری، کتاب وباب مذکور) ایک اور حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جب گرمی زیادہ سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے“۔ (حوالہ مذکور، مسلم، کتاب المساجد ) ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 - 11 کی تفسیر

    [8 - 11] ﴿ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَ٘رَامًا﴾ (القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِیَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتکاثرالتكاثر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید