الفيل

فیل

5 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ

    جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے.[1]

    حواشی

    [1] سِجِّيلٍ مٹی کو اگ میں پکا کر اس سے بنائےہوئےکنکر۔ ان چھوٹے چھوٹے پتھروں یا کنکروں نے توپ کے گولوں اور بندوق کی گولیوں سے زیادہ مہلک کام کیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 5 کی تفسیر

    [1 - 5] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدe کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہe متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقریشقريش

غلطی کی اطلاع دیں

مزید