قريش

قریش

4 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ

    (یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے[1] ۔ (اس کے شکریہ میں).

    حواشی

    [1] إِيلافٌ کے معنی ہیں، مانوس اور عادی ہونا، یعنی اس کا کام سے کلفت اور نفرت کا دور ہو جانا۔ قریش کی گزر ان کا ذریعہ تجارت تھی۔ سال میں دو مرتبہ ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیاء تجارت لاتا۔ سردیوں میں یمن، جو گرم علاقہ تھا اور گرمیوں میں شام کی طرف جو ٹھنڈا تھا۔ خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے تمام اہل عرب ان کی عزت کرتے تھے، اس لئے ان کے قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اللہ تعالیٰ اس سورت میں قریش کو بتلا رہا ہے کہ تم جو گرمی، سردی میں دو سفر کرتے ہو تو ہمارے اس احسان کی وجہ سے کہ ہم نے تمہیں مکے میں امن عطا کیا ہے اور اہل عرب میں معزز بنایا ہوا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو تمہارا سفر ممکن نہ ہوتا۔ اور اصحاب الفیل کو بھی ہم نے اسی لئے تباہ کیا ہے کہ تمہاری عزت بھی برقرار رہے اور تمہارے سفروں کا سلسلہ بھی، جس کے تم خوگر ہو، قائم رہے، اگر ابرہہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو تمہاری عزت وسیادت بھی ختم ہو جاتی اور سلسلہ سفر بھی منقطع ہو جاتا۔ اس لئے تمہیں چاہئے کہ صرف اسی بیت اللہ کے رب کی عبادت کرو۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 4 کی تفسیر

    [1 - 4] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا: ﴿فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰؔذَا الْبَیْتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتماعونالماعون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید