الكوثر

کوثر

3 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ

    یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے.[1]

    حواشی

    [1] أَبْتَرُ ایسے شخص کوکہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو ابتر کہا، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کی امت بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اوالاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ (صلى الله عليه وسلم) قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت واحترام سے کیا جاتا ہے، جبکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے بغض وعناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر خیرنہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 کی تفسیر

    [3] ﴿اِنَّ شَانِئَكَ﴾ آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا ﴿هُوَ الْاَبْتَرُ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے، اس کا عمل منقطع ہے اور اس کا ذکر منقطع ہے۔رہے رسول مصطفیٰ محمدe تو حقیقت میں وہی کامل ہیں، آپ کمال کے اس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں، مثلاً: رفعت ذکر، کثرت الانصار اور کثرت متبعین ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتکافرونالكافرون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید