هود

ہود

123 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 113

    وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ

    دیکھو ﻇالموں کی طرف ہرگز نہ جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی [1] اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے.

    حواشی

    [1] اس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے ان سے مدد حاصل مت کرو۔ اس سے ان کو یہ تأثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو۔ اس طرح یہ تمہارا ایک بہت بڑا جرم بن جائے گا جو تمہیں بھی ان کے ساتھ، نار جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ ربط و تعلق کی بھی ممانعت نکلتی ہے، اگر مصلحت عامہ یا دینی منافع متقاضی ہوں۔ ایسی صورت میں دل سے نفرت رکھتے ہوئے ان سے ربط و تعلق کی اجازت ہوگی۔ جیسا کہ بعض احادیث سے واضح ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 113 کی تفسیر

    [113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرْؔكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 113 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیوسفيوسف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید