هود

ہود

123 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 35

    أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ

    کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناه مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔[1]

    حواشی

    [1] بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح (عليه السلام) اور حضرت نوح (عليه السلام) کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے؟۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 35 کی تفسیر

    [35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُ٘لْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَ٘عَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَاَنَا بَرِیْٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجْرِمُوْنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ﴾ (الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمe ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولe کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپe کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا: ﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (e) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپe لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَ٘عَلَیَّ اِجْرَامِیْ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِیْٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجْرِمُوْنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیوسفيوسف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید