هود

ہود

123 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 52

    وَيَـٰقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِينَ

    اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو، تاکہ وه برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت قوت بڑھا دے[1] اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو۔[2]

    حواشی

    [1] حضرت ہود (عليه السلام) نے توبہ و استغفار کی تلقین اپنی امت یعنی اپنی قوم کو کی اور اس کے دو فوائد بیان فرمائے جو توبہ اور استغفار کرنے والی قوم کو حاصل ہوتے ہیں۔ جس طرح قرآن کریم اور بھی بعض مقامات پر یہ فوائد بیان کئے گئے ہیں (ملاحظہ سورۂ نوح: 11) اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے «مَنْ لَزِمَ الاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ» (أبو داود، كتاب الوتر، باب في الاستغفار، ﻧﻤﺒﺮ ١٥١٨، وابن ماجه ۔ ﻧﻤﺒﺮ ٣٨١٩)۔”جو پابندی سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالٰی اس کے لئے ہر فکر سے کشادگی، اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی“۔ [2] یعنی میں تمہیں جو دعوت دے رہا ہوں، اس سے اعراض اور اپنے کفر پر اصرار مت کرو۔ ایسا کرو گے تو اللہ کی بارگاہ میں مجرم اور گناہ گار بن کر پیش ہو گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 52 کی تفسیر

    [52] ﴿ وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّؔدْرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّیَزِدْؔكُمْ قُ٘وَّةً اِلٰى قُ٘وَّتِكُمْ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ٘ةً ﴾ (حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوْا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجْرِمِیْنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیوسفيوسف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید