هود

ہود

123 آیاتمکیپارہ 11

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 53

    قَالُوا۟ يَـٰهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

    انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو ﻻیا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان ﻻنے والے ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] ایک نبی دلائل و براہین کی پوری قوت اپنے ساتھ رکھتا ہے لیکن شپرہ چشموں کو وہ نظر نہیں آتے قوم ہود (عليه السلام) نے بھی اسی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بغیر دلیل کے محض تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو کس طرح چھوڑیں؟۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 53 کی تفسیر

    [53] ﴿ قَالُوْا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔ اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَرَبِّكُمْ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُ٘شْ٘رِكُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ فَؔكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔ کفار نے کہا: ﴿ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 53 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتیوسفيوسف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید