النصر

نصر

3 آیاتمدنیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ

    جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 3 کی تفسیر

    [1 - 3] اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے، اس خوشخبری کے حاصل ہو جانے پر رسول اللہe کے لیے ایک حکم ہے، نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولe کے لیے نصرت، فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے، اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔ رہا فتح و نصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولe کو حکم دیا کہ وہ اس فتح و نصرت پر اس کا شکر ادا کریں، اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔ رہا اشارہ تو اس میں دو اشارے ہیں: اول: دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہو گا کیونکہ تسبیح و استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّـكُمْ ﴾ (ابراہیم:14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی، یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا، حتیٰ کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تفرقِ کلمہ اور تشتُّتِ امر کے ذریعے سے انھیں آزمایا۔ پس پھر جو ہونا تھا ہوا۔ بایں ہمہ اس امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ خیال کی وہاں تک رسائی ہی ہے۔ دویم : رہا دوسرا اشارہ تو یہ رسول اللہe کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی اجل قریب آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ آپ کی عمر مبارک فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس نے مقرر فرما دیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام استغفار کے ساتھ ہو ، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد و استغفار کا حکم دینا اس مر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ. چنانچہ آپ قرآن کی (اس آیت کی) تاویل کرتے ہوئے اپنی نماز کے اندر، رکوع و سجود میں نہایت کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے :’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ (صحیح البخاري، الاذان، باب الدعاء فی الرکوع، ح: 794 و صحیح مسلم، الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ح: 484)’’اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمسدالمسد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید