الناس

ناس

6 آیاتمکیپارہ 30

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ

    وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1]

    حواشی

    [1] الْوَسْوَاسُ، بعض کے نزدیک اسم فاعل الْمُوَسْوِسُ کے معنی میں ہے اوربعض کےنزدیک یہ ذِي الْوَسْوَاسِ ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں۔ شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ الْخَنَّاسِ، ( کھسک جانے والایہ ) شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 6 کی تفسیر

    [1 - 6] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔ نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔ وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿مِنَ الْؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید