يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

    یقیناً ہم نے اس کو قرآن عربی نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو.[1]

    حواشی

    [1] آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد، لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں، اس لئے ہر آسمانی کتاب اس قومی زبان میں نازل ہوئی، جس قوم کی ہدایت کے لئے اتاری گئی تھی۔ قرآن کریم کے مخاطب اول چونکہ عرب تھے، اس لئے قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا۔ علاوہ ازیں عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت اور ادائے معانی کے لحاظ سے دنیا کی بہترین زبان ہے۔ اس لئے اللہ تعالٰی نے اس اشرف الکتاب (قرآن مجید) کو اشرف اللغات (عربی) میں اشرف الرسل (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم) پر اشرف الملائکہ (جبرائیل) کے ذریعے سے نازل فرمایا اور مکہ، جہاں اس کا آغاز ہوا، دنیا کا اشرف ترین مقام ہے اور جس مہینے میں نزول کی ابتدا ہوئی وہ بھی اشرف ترین مہینہ، رمضان ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 2 کی تفسیر

    [2] اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے۔ (المُبِین) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح و تبیین ہے ﴿ لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَؔ﴾ ’’تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لو گے اور تمھارے دل اس کی معرفت سے لبریز ہو جائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿ لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَؔ﴾ یعنی تمھارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمھاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلیٰ و اکمل احوال میں منتقل ہو جاؤ گے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید