يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَـٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ

    اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف اس[1] کا قصد کرتے اگر وه اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے[2]، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں[3]۔ بے شک وه ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا.

    حواشی

    [1] بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ «لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ» (یوسف:24) کا تعلق ماقبل یعنی «وَهَمَّ بِهَا» سے نہیں بلکہ اس کا جواب محذوف ہے یعنی "لَوْلا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ لَفَعَلَ مَا هَمَّ بِهِ" ترجمہ یہ ہوگا کہ اگر یوسف (عليه السلام) اللہ کی دلیل نہ دیکھتے تو جس چیز کا قصد کیا تھا وہ کر گزرتے۔ یہ ترجمہ اکثر مفسرین کی تفسیر کے مطابق ہے اور جن لوگوں نے اسے لَوْلَا کے ساتھ جوڑ کر یہ معنی بیان کئے ہیں کہ یوسف (عليه السلام) نے قصد ہی نہیں کیا، ان مفسرین نے اسے عربی اسلوب کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور یہ معنی بیان کئے ہیں کہ قصد تو یوسف (عليه السلام) نے بھی کر لیا تھا لیکن ایک تو یہ اختیاری نہیں تھا بلکہ عزیز مصر کی بیوی کی ترغیب اور دباؤ اس میں شامل تھا۔ دوسرے یہ کہ گناہ کا قصد کر لینا عصمت کے خلاف نہیں ہے، اس پر عمل کرنا عصمت کے خلاف ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) مگر محققین اہل تفسیر نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ یوسف (عليه السلام) بھی اس کا قصد کر لیتے۔ اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھے ہوتے۔ یعنی انہوں نے اپنے رب کی برہان دیکھ رکھی تھی۔ اس لیے عزیز مصر کی بیوی کا قصد ہی نہیں کیا۔ بلکہ دعوت گناہ ملتے ہی پکار اٹھے مَعَاذَ اللَّهِ۔ البتہ قصد نہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ نفس میں ہیجان اور تحریک ہی پیدا نہیں ہوئی۔ ہیجان اور تحریک پیدا ہو جانا الگ بات ہے۔ اور قصد کر لینا الگ بات ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر سرے سے ہیجان اور تحریک ہی پیدا نہ ہو تو ایسے شخص کا گناہ سے بچ جانا کوئی کمال نہیں۔ کمال تو تب ہی ہے کہ نفس کے اندر داعیہ اور تحریک پیدا ہو اور پھر انسان اس پر کنٹرول کرے اور گناہ سے بچ جائے۔ حضرت یوسف (عليه السلام) نے اسی کمال صبر و ضبط کا بےمثال نمونہ پیش فرمایا۔ [2] یہاں پہلی تفسیر کے مطابق لَوْلاَ کا جواب محذوف ہے لَفَعَلَ مَا هَمَّ بِهِ یعنی اگر یوسف (عليه السلام) رب کی برہان دیکھتے تو جو قصد کیا تھا کر گزرتے۔ یہ برہان کیا تھی؟ اس میں مختلف اقوال ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رب کی طرف سے کوئی ایسی چیز آپ کو دکھائی گئی کہ اسے دیکھ کر آپ نفس کے داعیئے کے دبانے اور رد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اللہ تعالٰی اپنے پیغمبروں کی اسی طرح حفاظت فرماتا ہے۔ [3] یعنی جس طرح ہم نے یوسف (عليه السلام) کو برہان دکھا کر برائی یا اس کے ارادے سے بچا لیا، اسی طرح ہم نے اسے ہر معاملے میں برائی اور بےحیائی کی باتوں سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ کیونکہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 23 - 24 کی تفسیر

    یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسفu کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انھوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیاری تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

    [24,23] اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسفu عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کامل حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔ ﴿وَرَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ﴾ ’’تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔‘‘ یعنی یوسفu جس عورت کے غلام اور اس کے زیردست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ ﴿وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ ﴾ ’’اس نے دروازے بند کر دیے‘‘ اور مکان خالی ہو گیا اور دروازوں کو بند کر دینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈر نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسفu کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ ﴿وَقَالَتْ هَیْتَ لَكَ﴾ ’’کہنے لگی، جلدی آؤ۔‘‘ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سرانجام دو۔ اس کے باوجود کہ یوسفu ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کر سکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے غلام تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسفu خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف (u) نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انھیں قید خانے میں بھجوا دے گی یا انھیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گی۔ مگر بایں ہمہ، جناب یوسفu اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے کیونکہ جس فعل کا ارادہ انھوں نے کر لیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انھیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کر دیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔ ﴿قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی پناہ‘‘ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کر دیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں ۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسفu نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دیا وہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفu کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جاگزیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا… اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسفu سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیا تھا کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کر لیا اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کر دی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کر دیا۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید