يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 32

    قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ

    اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں[1] ، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا.[2]

    حواشی

    [1] جب امرأة العزیز نے دیکھا اس کی چال کامیاب رہی ہے اور عورتیں یوسف (عليه السلام) کے جلوہ حسن آراء سے مد ہوش ہوگئیں تو کہنے لگی، کہ اس کی ایک جھلک سے تمہارا یہ حال ہو گیا ہے تو کیا تم اب بھی مجھے اس کی محبت میں گرفتار ہونے پر طعنہ زنی کروگی؟ یہی وہ غلام ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ [2] عورتوں کی مد ہوشی دیکھ کر اس کو مزید حوصلہ ہو گیا اور شرم و حیا کے سارے حجاب دور کر کے اس نے اپنے برے ارادے کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 32 کی تفسیر

    [32] جب ان عورتوں کے سامنے یوسفu کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسفu ان کو بہت ہی اچھے لگے تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا، پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسفu کے باطنی جمال… یعنی عفت کامل… کا نظارہ کروائے چنانچہ اس عورت نے کسی چیز کی پروا کیے بغیر کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہو گئی تھی… یوسفu سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتْ فَذٰلِكُ٘نَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ﴾ ’’یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا‘‘ یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسفu کو پھسلانے کے موقف پر قائم تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے قراری، محبت اور شوق وصال میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا، لہٰذا اس نے ان عورتوں کی موجودگی میں یوسفu سے کہا: ﴿وَلَىِٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَ٘نَّ وَلَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَؔ﴾ ’’اگر اس نے وہ کام نہ کیا، جس کا حکم میں اس کو دے رہی ہوں تو یہ یقینا قید کر دیا جائے گا اور بے عزت ہو گا‘‘ تاکہ وہ اس دھمکی کے ذریعے سے جناب یوسفu سے اپنا مقصد حاصل کر سکے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 32 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید