يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 50

    وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّـٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ

    اور بادشاه نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ[1] ، جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا، اپنے بادشاه کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے[2]، تھے؟ ان کے حیلے کو (صحیح طور پر) جاننے واﻻ میرا پروردگار ہی ہے.

    حواشی

    [1] مطلب یہ ہے کہ جب وہ شخص تعبیر دریافت کر کے بادشاہ کے پاس گیا اور اسے تعبیر بتائی تو وہ اس تعبیر سے اور حضرت یوسف (عليه السلام) کی بتلائی ہوئی تدبیر سے بڑا متاثر ہوا اور اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص، جسے ایک عرصے سے حوالہ زنداں کیا ہوا ہے، غیر معمولی علم و فضل اور اعلٰی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ چنانچہ بادشاہ نے انہیں دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ [2] حضرت یوسف (عليه السلام) نے جب دیکھا کہ بادشاہ اب مائل بہ کرم ہے، تو انہوں نے اس طرح محض عنایت خسوانہ سے جیل سے نکلنے کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ اپنے کردار کی رفعت اور پاک دامنی کے اثبات کو ترجیح دی تاکہ دنیا کے سامنے آپ کا کردار اور اس کی بلندی واضح ہو جائے۔ کیونکہ داعی الی اللہ کے لئے یہ عفت و پاک بازی اور رفعت کردار بہت ضروری ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 50 کی تفسیر

    [50] جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انھیں یوسفu کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انھیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بے حد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَقَالَ الْمَلِكُ﴾ ’’بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے) کہا‘‘ ﴿ ائْتُوْنِیْ بِهٖ﴾ ’’اسے میرے پاس لاؤ‘‘یعنی یوسفu کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ ﴾ ’’پس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسفu کے پاس آیا‘‘ اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لیے کہا تو انھوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کر دیا جب تک کہ ان کی براء ت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہو جاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ اس وقت انھوں نے بادشاہ کے ایلچی سے کہا: ﴿ ارْجِـعْ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ ’’بادشاہ کے پاس واپس جا‘‘ ﴿فَسْـَٔؔلْهُ مَا بَ٘الُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَ٘طَّ٘عْنَ اَیْدِیَهُنَّ﴾ ’’بادشاہ سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘‘ کیونکہ ان کا معاملہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ﴿ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ ﴾ ’’میرا رب تو ان کا فریب، سب جانتا ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید