يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 67

    وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍ وَٰحِدٍ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

    اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا[1] ۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے[2]۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے.

    حواشی

    [1] جب بنیامین سمیت، گیارہ بھائی مصر جانے لگے، تو یہ ہدایت دی، کیونکہ ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے، جو قد و قامت اور شکل و صورت میں بھی ممتاز ہوں، جب اکٹھے ایک ہی جگہ یا ایک ساتھ کہیں سے گزریں گے تو عموماً انہیں لوگ تعجب یا حسد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہی چیز نظر لگنے کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ انہیں نظر بد سے بچانے کے لئے بطور تدبیر یہ حکم دیا ”نظر لگ جانا حق ہے“ جیسا کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً «الْعَيْنُ حَقٌّ»، ”نظر کا لگ جانا حق ہے“۔ ( صحيح بخاري، كتاب الطب، باب العين حق- وصحيح مسلم ، كتاب السلام، باب الطب والمرض والرقى ) اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے نظر بد سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات بھی اپنی امت کو بتالئے ہیں مثلا فرمایا کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو بَارَكَ الله ُکہو۔ ( موطأ إمام مالك، باب الوضوء من العين- تعليقات مشكاة ألباني - نمبر1286) جس کی نظر لگے اس کو کہا جائے کہ غسل کرے اور اس کے غسل کا یہ پانی اس شخص کے سر اور جسم پر ڈالا جائے جس کو نظر لگی ہو (حوالہ مذکورہ) اسی طرح «مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ» پڑھنا قرآن سے ثابت ہے (سورہ کہف:39) «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» نظر کے لیے بطور دم پڑھنا چاہیے۔ ( جامع ترمذي أبواب الطب، باب ما جاء في الرقية بالمعوذتين) [2] یعنی یہ تاکید بطور ظاہری اسباب، احتیاط اور تدبیر کے ہے جسے اختیار کرنے کا انسانوں کو حکم دیا گیا ہے، تاہم اس سے اللہ تعالٰی کی تقدیر و قضا میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہوگا وہی، جو اس کی قضا کے مطابق اس کا حکم ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 67 کی تفسیر

    [67] پھر جب یعقوبu نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو ان کو وصیت کی کہ جب وہ مصر پہنچیں تو ﴿ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَ٘ابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ﴾ ’’ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں ‘‘ یعنی وہ ان کے ایک ہی شخص کے بیٹے ہوتے ہوئے ان کی کثرت اور ان کے حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب ہے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے ﴿ وَمَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ﴾ ’’میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچا سکتا‘‘ پس جو چیز تقدیر میں لکھی جا چکی ہے وہ ہو کر رہے گی۔ ﴿ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾ ’’حکم تو اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی فیصلہ وہی ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے اور حکم وہی ہے جو اس کا حکم ہے۔ پس جس چیز کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کر دے وہ ضرور واقع ہوتا ہے۔ ﴿ عَلَیْهِ تَوَكَّؔلْتُ﴾ ’’اسی پر میرا بھروسہ ہے‘‘ یعنی جن اسباب کو اختیار کرنے کی میں نے تمھیں وصیت کی ہے، میں اس پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ ﴿وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَؔكِّلُوْنَؔ ﴾ ’’اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے‘‘ کیونکہ توکل ہی کے ذریعے سے ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور توکل ہی کے ذریعے سے ہر خوف کو دور کیا جاتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 67 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید