يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 76

    فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ

    پس یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی شروع کی، اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے، پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے سامان (زنبیل) سے نکالا[1] ۔ ہم نے یوسف کے لئے اسی طرح یہ تدبیر کی[2]۔ اس بادشاه کے قانون کی رو سے یہ اپنے بھائی کو نہ لے سکتا تھا[3] مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو۔ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں[4]، ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے واﻻ دوسرا ذی علم موجود ہے.[5]

    حواشی

    [1] پہلے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی۔ آخر میں بنیامین کا سامان دیکھا تاکہ انہیں شبہ نہ ہو کہ یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ [2] یعنی ہم نے وحی کے ذریعے سے یوسف (عليه السلام) کو یہ تدبیر سمجھائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح غرض کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرنا جس کی ظاہری صورت حیلہ کی ہو، جائز ہے بشرطیکہ وہ طریقہ کسی نص شرعی کے خلاف نہ ہو (فتح القدیر) [3] یعنی بادشاہ مصر میں جو قانون اور دستور رائج تھا، اس کی روح سے بنیامین کو اس طرح روکنا ممکن نہیں تھا اس لئے انہوں نے اہل قافلہ سے پوچھا کہ بتلاؤ اس جرم کی سزا کیا ہو۔ [4] جس طرح یوسف (عليه السلام) کو اپنی عنایات اور مہربانیوں سے بلند مرتبہ عطا کیا۔ [5] یعنی ہر عالم سے بڑھ کر کوئی نہ کوئی عالم ہوتا ہے اس لئے کوئی صاحب علم اس دھوکے میں مبتلا نہ ہو کہ میں ہی اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم ہوں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر صاحب علم کے اوپر ایک علیم یعنی اللہ تعالٰی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 76 کی تفسیر

    [76] ﴿ فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ۠ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کو دیکھنا شروع کیا۔‘‘ یعنی تلاشی لینے والے نے پہلے یوسفu کے بھائیوں کی خرجیوں کی تلاشی لی تاکہ وہ شک زائل ہو جائے کہ سب کچھ قصداً کیا گیا ہے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘یعنی جب بھائیوں کی خرجیوں سے کچھ نہ ملا ﴿ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ﴾ ’’اس برتن کو نکال لیا اپنے بھائی کی خرجی سے‘‘ یعنی حقیقت واقعہ کی رعایت رکھتے ہوئے (وَجَدَھَا) یا (سَرَقَھَا) نہیں کہا۔ اس طرح یوسفu کے اس منصوبے کی تکمیل ہوگئی جس کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اس طرح اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں کو اصل صورت حال کا علم نہ ہو۔ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ﴾ ’’اس طرح تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے‘‘ یعنی ہم نے یوسفu کے لیے اس تدبیر کو آسان کر دیا جس کے ذریعے سے وہ غیر مذموم طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ﴿ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ﴾ ’’وہ اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا اس بادشاہ کے دین میں ‘‘ یعنی بادشاہ کے قانون کے مطابق مال مسروقہ کے مالک کو یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ چور کا مالک بن سکے۔ ان کے ہاں چوری کی کوئی اور سزا تھی۔ اگر فیصلہ بادشاہ کے قانون کے مطابق ہوتا تو یوسفu اپنے بھائی کو اپنے پاس نہ رکھ سکتے۔ اس لیے حضرت یوسفu نے اپنے بھائیوں سے فیصلہ کروایا تاکہ ان کے منصوبے کی تکمیل ہو۔ ﴿ نَرْفَ٘عُ دَرَجٰؔتٍ مَّنْ نَّشَآءُ﴾ ’’ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں ‘‘ یعنی علم نافع اور اس راستے کی معرفت عطا کر کے جو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ جیسے ہم نے حضرت یوسفu کے درجات بلند کیے۔ ﴿ وَفَوْقَ كُ٘لِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ﴾ ’’اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔‘‘ یعنی ہر صاحب علم کے اوپر ایک شخص ہوتا ہے جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی تک جا پہنچتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 76 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید