يوسف

یوسف

111 آیاتمکیپارہ 12

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 88

    فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَـٰعَةٍ مُّزْجَىٰةٍ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ

    پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے[1] تو کہنے لگے کہ اے عزیز! ہم کو اور ہمارے خانداں کو دکھ پہنچا ہے[2]۔ ہم حقیر پونجی ﻻئے ہیں پس آپ ہمیں پورے غلہ کا ناپ دیجئے[3] اور ہم پر خیرات کیجئے[4]، اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے.

    حواشی

    [1] یہ تیسری مرتبہ ان کا مصر جانا ہے۔ [2] یعنی غلہ لینے کے لئے ہم جو ثمن (قیمت) لے کر آئے ہیں، وہ نہایت قلیل اور حقیر ہے۔ [3] یعنی ہماری حقیر پونجی کو نہ دیکھیں، ہمیں اس کے بدلے میں پورا ناپ دیں۔ [4] یعنی ہماری حقیر پونجی قبول کر کے ہم پر احسان اور خیرات کریں۔ اور بعض مفسرین نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ہمارے بھائی بنیامین کو آزاد کر کے ہم پر احسان فرمائیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 88 کی تفسیر

    [88] پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ ﴾ ’’جب وہ اس کے پاس گئے۔‘‘ یعنی جب وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالُوْا﴾ تو انھوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الْ٘عَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّ٘رُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰؔىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا﴾ ’’اے عزیز! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں ، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں ‘‘ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰؔىةٍ ﴾ ’’اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بے وقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں ۔ ﴿ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ﴾ ’’پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔‘‘ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کر کے ہم پر صدقہ کیجیے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتاہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 88 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترعدالرعد

غلطی کی اطلاع دیں

مزید