الرعد

رعد

43 آیاتمدنیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 33

    أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ۗ وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلْأَرْضِ أَم بِظَـٰهِرٍ مِّنَ ٱلْقَوْلِ ۗ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا۟ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ

    آیا وه اللہ جو نگہبانی کرنے واﻻ ہے ہر شخص کی، اس کے کئے ہوئے اعمال پر[1] ، ان لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں کہہ دیجئے ذرا ان کے نام تو لو[2]، کیا تم اللہ کو وه باتیں بتاتے ہو جو وه زمین میں جانتا ہی نہیں، یا صرف اوپری اوپری باتیں بتا رہے[3] ہو، بات اصل یہ ہے کہ کفر کرنے والوں کے لئے ان کے مکر سجا دیئے گئے ہیں[4]، اور وه صحیح راه سے روک دیئے گئے ہیں، اور جس کو اللہ گمراه کر دے اس کو راه دکھانے واﻻ کوئی نہیں.[5]

    حواشی

    [1] یہاں اس کا جواب محذوف ہے یعنی کیا رب العزت اور وہ معبودان باطل برابر ہو سکتے ہیں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں، جو کسی کو نفع پہنچانے پرقادر ہیں نہ نقصان پہنچانے پر، نہ وہ دیکھتے ہیں اور نہ عقل وشعور سے بہرہ ور ہیں۔ [2] یعنی ہمیں بھی تو بتاؤ تاکہ انہیں پہچان سکیں اس لئے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ اس لئے آگے فرمایا، کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں، یعنی ان کا وجود ہی نہیں۔ اس لئے کہ اگر زمین میں ان کا وجود ہوتا تو اللہ تعالٰی کے علم میں ضرور ہوتا، اس پر تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ [3] یہاں ظاہر ظن کے معنی میں ہے یعنی یا یہ صرف ان کی ظنی باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کی عبادت اس گمان پر کرتے ہو کہ یہ نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں اور تم ان کے نام بھی معبود رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ، "یہ تمہارے اور تمہارے باپوں کے رکھے ہوئے نام ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔ یہ صرف گمان اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں"۔ (النجم۔23) [4] مکر سے مراد، ان کے وہ غلط عقائد و اعمال ہیں جن میں شیطان نے ان کو پھنسا رکھا ہے، شیطان نے گمراہیوں پر بھی حسین غلاف چڑھا رکھے ہیں۔ [5] جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، «وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا»(المائدہ:41)۔ ”جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے تو اللہ اس کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا“، اور فرمایا۔ «اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ( النحل:37)۔ ”اگر تم ان کی ہدایت کی خواہش رکھتے ہو تو (یاد رکھو) اللہ تعالٰی اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کرتا ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 33 کی تفسیر

    [33] ﴿ اَفَ٘مَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُ٘لِّ نَ٘فْ٘سٍۭؔ بِمَا كَسَبَتْ﴾ ’’تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کانگران ہے۔‘‘ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے… اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ… اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُ٘رَؔكَآءَ﴾ ’’اور انھوں نے اللہ کے شریک ٹھہرا لیے‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بے نیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نظیر۔ ﴿ قُ٘لْ ﴾ اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ سَمُّوْهُمْ﴾ ’’ان کے نام لو‘‘ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو ﴿ اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ۠ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں ‘‘ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور حاضر ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کی شریک ہو تو ان کے اس دعویٰ کا بطلان واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے اور تم اس شخص کی مانند ہو جو اللہ تعالیٰ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہے اور یہ باطل ترین قول ہے اس لیے فرمایا: ﴿ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ﴾ ’’یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں ‘‘ تمھارے دعویٰ، کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ہے، کی انتہا یہ ہے کہ یہ تمھاری خالی خولی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کچھ بھی عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ ﴾ ’’بلکہ خوب صورت کر دیے گئے ہیں کافروں کے لیے ان کے فریب‘‘ وہ چال جو انھوں نے چلی، یعنی ان کا کفر، شرک اور آیات الٰہی کو جھٹلانا ﴿ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ﴾ ’’اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی انھیں صراط مستقیم سے روک دیا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے ﴿ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ‘‘ کیونکہ کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتابراهيمإبراهيم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید