إبراهيم

ابراهيم

52 آیاتمکیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 12

    وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہمیں ہماری راہیں سمجھائی ہیں۔ واللہ جو ایذائیں تم ہمیں دو گے ہم ان پر صبر ہی کریں گے۔ توکل کرنے والوں کو یہی ﻻئق ہے کہ اللہ ہی پر توکل کریں.[1]

    حواشی

    [1] کہ وہی کفار کی شرارتوں اور سفاہتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہم سے معجزات طلب نہ کریں، اللہ پر توکل کریں، اس کی مشیت ہوگی تو معجزہ ظاہر فرما دے گا ورنہ نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 12 کی تفسیر

    [12] ﴿ وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰؔىنَا سُبُلَنَا﴾ ’’اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں اور وہ سجھا چکا ہمیں ہماری راہیں ‘‘ یعنی کون سی چیز ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے روک سکتی ہے۔ حالانکہ ہم واضح حق اور ہدایت پر ہیں اور جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو یہ ہدایت اس کے لیے توکل کی تکمیل کی موجب بنتی ہے۔ اسی طرح یہ معلوم ہونا کہ اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے والے کے بوجھ کی کفالت کرتا اور اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے، توکل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ اختیار نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کفالت و کفایت کا ضامن نہیں ہوتا، پس اس کا حال متوکل کے حال کے برعکس ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ، انبیاء و مرسلین کی طرف سے گویا اپنی قوم کے لیے ایک عظیم معجزے کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ انبیاء کی قوم غالب حالات میں ، اقتدار اور غلبہ کی مالک ہوتی ہے۔ اس کے رسول ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ ان کی چالوں اور سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی کفایت کا پورا یقین ہے اور کفار کی انبیاء و مرسلین کی بیخ کنی کی خواہش اور نور حق کو بجھانے کی حرص کے باوجود، اللہ نے انبیاء و مرسلین کی کفایت کی اور انھیں کفار کے مکروکید سے بچایا۔ یہ جناب نوحu کے اس قول کی مانند ہے جو انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا ﴿یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَتَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَ٘عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّؔلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَؔكُمْ وَ شُ٘رَؔكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُؔكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّؔةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَلَا تُنْظِرُوْنِ﴾ (یونس: 10؍71) ’’اے میری قوم! اگر تمھارے درمیان میرا قیام اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے تمھیں میرا نصیحت کرنا تم پر گراں گزرتا ہے تو میرا توکل اللہ پر ہے، پس تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک فیصلے پر متفق ہو جاؤ اور تمھارے اس فیصلے کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہے پھر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہو کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔‘‘ اسی طرح ہودu نے اپنی قوم سے کہا تھا ﴿اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُ٘شْ٘رِكُوْنَۙ۰۰مِنْ دُوْنِهٖ فَؔكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ﴾ (ھود: 11؍54-55) ’’میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم نے جو اللہ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں میں ان سے بیزار ہوں ، پس تم سب مل کر میرے خلاف چال چل لو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو۔‘‘ ﴿ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا﴾ ’’اور ہم ضرور ان تکلیفوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دو گے‘‘ یعنی ہم تمھیں حق کی دعوت دیتے اور تمھیں وعظ و نصیحت کرتے رہیں گے اور تمھاری طرف سے ہمیں جو تکلیف پہنچے گی ہم اس کی پروا نہ کریں گے، ہم اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھتے ہیں اور تمھاری خیرخواہی کرتے ہوئے اپنے آپ کو تمھاری اذیتوں کا عادی بنائیں گے۔ شاید کثرت نصیحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمھیں ہدایت سے نواز دے۔ ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور صرف اللہ پر‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نہیں ﴿ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَؔكِّلُوْنَ ﴾ ’’چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ انبیاء ومرسلین توکل کے بہترین مطالب اور بلند ترین مراتب پر فائز ہیں اور وہ ہے اقامت دین میں ، اللہ تعالیٰ کی مدد میں، اس کے بندوں کی راہنمائی اور ان سے گمراہی کے ازالے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور یہ کامل ترین توکل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجرالحجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید