إبراهيم

ابراهيم

52 آیاتمکیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 31

    قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَـٰلٌ

    میرے ایمان والے بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازوں کو قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ پوشیده اور ﻇاہر خرچ کرتے رہیں اس سے پہلے کہ وه دن آجائے جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی نہ دوستی اور محبت.[1]

    حواشی

    [1] نماز کو قائم کرنے کا مطلب ہے کہ اسے اپنے وقت پر اور نماز کو ٹھیک طریقہ کے ساتھ اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے، جس طرح کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی سنت ہے۔ انفاق کا مطلب ہے زکوۃ ادا کی جائے، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے اور دیگر ضرورت مندوں پر احسان کیا جائے یہ نہیں کہ صرف اپنی ذات اور اپنی ضروریات پر تو بلا دریغ خوب خرچ کیا جائے۔ اور اللہ تعالٰی کی بتلائی ہوئی جگہوں پر خرچ کرنے سے گریز کیا جائے۔ قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جہاں نہ خرید و فروخت ممکن ہوگی نہ کوئی دوستی ہی کسی کام آئے گی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 31 کی تفسیر

    [31] ﴿ قُ٘لْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾ ’’میرے مومن بندوں سے کہہ دو۔‘‘ یعنی انھیں ان امور کا حکم دیجیے جن میں ان کی اصلاح ہے اور انھیں یہ بھی حکم دیا کہ اس سے قبل کہ ان کی اصلاح ممکن نہ ہو وہ فرصت کو غنیمت جانیں ۔ ﴿ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ وہ ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ نماز قائم کریں ﴿وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ ﴾ ’’اور ہم نے جو انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کم یا زیادہ جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے خرچ کریں ﴿ سِرًّا وَّعَلَانِیَةً ﴾ ’’چھپے اور ظاہر‘‘ یہ حکم نفقات واجبہ ، مثلاً: زکٰوۃ اور نفقات کفالت اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام صدقات وغیرہ کو شامل ہے۔ ﴿ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَلَا خِلٰلٌ ﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دن آ جائے، جس میں نہ کوئی سودا ہو گا نہ دوستی‘‘ یعنی اس دن کوئی چیز فائدہ نہ دے گی اور جو چیز فوت ہو گئی ہو گی تو کسی خرید و فروخت کے معاوضے، کسی ہبہ اور کسی دوست یار کے ذریعے سے اس کا تدارک ممکن نہیں ہو گا۔ پس ہر شخص کا اپنا اپنا معاملہ ہوگا جو اس کو دوسروں سے بے نیاز کر دے گا، اس لیے ہر شخص کو اپنے لیے کچھ بھیجنا چاہیے اور خوب اچھی طرح غور کر لے کہ وہ کل کے لیے کیا آگے بھیج رہا ہے۔ وہ اپنے اعمال پر نظر ڈالے اور بڑے حساب کتاب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کر لے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجرالحجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید