إبراهيم

ابراهيم

52 آیاتمکیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

    ہم نے ہر ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر دے[1] ۔ اب اللہ جسے چاہے گمراه کر دے، اور جسے چاہے راه دکھا دے، وه غلبہ اور حکمت واﻻ ہے.[2]

    حواشی

    [1] پھر جب اللہ تعالٰی نے اہل دنیا پر یہ احسان فرمایا کہ ان کی ہدایت کے لئے کتابیں نازل کیں اور رسول بھیجے، تو اس احسان کی تکمیل اس طرح فرمائی کہ ہر رسول کو قومی زبان میں بھیجا تاکہ کسی کو ہدایت کا راستہ سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ [2] لیکن اس بیان و تشریح کے باوجود ہدایت اسے ملے گی جسے اللہ چاہے گا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 4 کی تفسیر

    [4] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے ان امور کو واضح کرے جن کے وہ محتاج ہیں اور وہ ان کی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں کتاب لے کر آیا ہوتا تو وہ اس زبان کو سیکھنے کے محتاج ہوتے جس میں رسول کلام کرتا ہے تب کہیں جا کر رسول کی باتیں ان کی سمجھ میں آتیں ۔ پس جب رسول ان تمام امور کو بیان کر دیتا ہے جن کا انھیں حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تو ان میں سے جو لوگ ہدایت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ ان کو گمراہ کردیتا ہے اور جن کو اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتا ہے ان کو راہ ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴾ ’’اور وہ غالب حکمت والا ہے‘‘ جس کا غلبہ یہ ہے کہ وہ ہدایت دینے، گمراہ کرنے اور جس طرف چاہے دلوں کو پھیر دینے میں منفرد ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو اسی مقام پر واقع کرتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ وہ علوم عربیہ جن کے ذریعے سے کلام اللہ اور کلام رسول کی توضیح و تبیین ہوتی ہے، امور مطلوبہ میں شمار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں کیونکہ ان کے بغیر کتاب اللہ کی معرفت کی تکمیل نہیں ہوتی، البتہ اگر لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ ان علوم عربیہ کے محتاج نہ ہوں اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ انھیں عربی زبان پر عبور حاصل ہو اور ان کے چھوٹے بچوں نے عربی زبان میں تعلیم و تربیت حاصل کی ہو اور عربی زبان ان کی طبیعت بن گئی ہو تو اس صورت میں اس مشقت میں پڑنے کی ان کو ضرورت نہیں اور وہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe سے دین اس طرح اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس طرح صحابہ کرامy نے (بغیر علوم آلیہ اور عربیہ کے) دین اخذ کیا تھا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجرالحجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید