إبراهيم

ابراهيم

52 آیاتمکیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 44

    وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ

    لوگوں کو اس دن سے ہوشیار کردے جب کہ ان کے پاس عذاب آجائے گا، اور ﻇالم کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں بہت تھوڑے قریب کے وقت تک کی ہی مہلت دے کہ ہم تیری تبلیﻎ مان لیں اور تیرے پیغمبروں کی تابعداری میں لگ جائیں۔ کیا تم اس سے پہلے بھی قسمیں نہیں کھا رہے تھے؟ کہ تمہارے لیے دنیا سے ٹلنا ہی نہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی دنیا میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ کوئی حساب کتاب اور جنت دوزخ نہیں، دوبارہ کسے زندہ ہونا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 44 کی تفسیر

    [44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیe سے فرماتا ہے ﴿ وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ ﴾ یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجیے اور انھیں برے اعمال سے ڈرايے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انھیں شدائد میں آ پکڑے گا۔ ﴿ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﴾ ’’تب ظالم لوگ کہیں گے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوکر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہو گا۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَخِّ٘رْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَ٘رِیْبٍ﴾ ’’اے ہمارے رب مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک‘‘ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہو چکی ہے ﴿ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ ﴾ ’’کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو‘‘ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَ نَتَّ٘بِـعِ الرُّسُلَ ﴾ ’’اور پیروی کر لیں ہم رسولوں کی‘‘ ان کی یہ تمام آہ و زاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لیے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ ﴿وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ ﴾ (الانعام:6؍28) ’’اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔‘‘ اس لیے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا ﴿ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْۤا اَ٘قْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ ﴾ ’’کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا‘‘ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہو گیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمھارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجرالحجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید