إبراهيم

ابراهيم

52 آیاتمکیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 46

    وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ

    یہ اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ کو ان کی تمام چالوں کا علم ہے[1] اور ان کی چالیں ایسی نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں.[2]

    حواشی

    [1] یہ جملہ حالیہ ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ جو کیا وہ کیا، درآنحالیکہ انہوں نے باطل کے اثبات اور حق کے رد کرنے کے لئے مقدور بھر حیلے اور مکر کیے اور اللہ کو ان تمام چالوں کا علم ہے یعنی اس کے پاس درج ہے جس کی وہ ان کو سزا دے گا۔ [2] کیونکہ اگر پہاڑ ٹل گئے ہوتے تو اپنی جگہ برقرار نہ ہوتے، جب کہ سب پہاڑ اپنی اپنی جگہ ثابت اور برقرار ہیں۔ یہ ان نافیہ کی صورت میں ہے دوسرے معین ان مخففۃ من المثقلۃ کے لیے گئے ہیں یعنی یقینا ان کے مکر تو اتنے بڑے تھے کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے یہ تو اللہ تعالٰی ہی ہے جس نے ان کے مکروں کو کامیاب نہیں ہوتے دیا جیسے مشریکن کے شرک کے بارے میں اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (1) أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا» (سورة مريم: 90-91)۔ ”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں اس بات پر کہ انہوں نے کہا اللہ رحمٰن کی اولاد ہے“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 46 کی تفسیر

    [46] ﴿ وَقَدْ مَكَرُوْا﴾ ’’اور چال چلی‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والوں نے ﴿ مَكْرَهُمْ ﴾ ’’اپنی چال‘‘ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انھوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ ﴿ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ﴾ ’’اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انھی کے خلاف گئیں ۔ ﴿وَلَا یَحِیْقُ الْمَؔكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ٘﴾ (فاطر: 35؍43) ’’اور بری چالوں کا وبال انھی لوگوں پر پڑتا ہے جو چالیں چلتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِـتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ ﴾ ’’اگرچہ ان کی چال ایسی تھی کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ‘‘ یعنی انبیاء و رسل اور وحی کو جھٹلانے والوں کی چالیں اور سازشیں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے سبب سے بڑے بڑے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ، یعنی ﴿وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًؔا﴾ (نوح: 71؍22) ’’انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں ۔‘‘ ان کی سازشیں اتنی بڑی تھیں کہ ان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشیں انھی پر الٹ دیں ۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص شامل ہے جو باطل کی نصرت اور حق کے ابطال کے لیے،انبیاء و رسل کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آئیں اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچا سکے بلکہ انھوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجرالحجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید