إبراهيم

ابراهيم

52 آیاتمکیپارہ 13

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِى لَشَدِيدٌ

    اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه [1] کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده[2] دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے.[3]

    حواشی

    [1] تَأَذَّنَ کے معنی أَعْلَمَكُمْ بِوَعْدِهِ لَكُمْ، اس نے تمہیں اپنے وعدے سے تمہیں آگاہ اور خبردار کر دیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قسم کے معنی میں ہو یعنی جب تمہارے رب نے اپنی عزت و جلال اور کبریائی کی قسم کھا کر کہا (ابن کثیر) [2] نعمت پر شکر کرنے پر مزید انعامات سے نوازوں گا۔ [3] اس کا مطلب یہ ہوا کہ کفران نعمت (ناشکری) اللہ کو ناپسند ہے، جس پر اس نے سخت عذاب کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی (صحيح مسلم، العيدين أوائل كتاب الصلاة)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 کی تفسیر

    [7] اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نعمتوں پر شکر کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ ﴾ ’’جب تمھارے رب نے آگاہ کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا اور وعدہ کیا ﴿ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّـكُمْ ﴾ ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ دوں گا‘‘ یعنی اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا ﴿ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ﴾ ’’اور اگر تم نے کفر کیا تو میرا عذاب نہایت سخت ہے‘‘ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کو زائل کر دے جو انھیں عطا کی تھیں ۔ شکر سے مراد، دل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، ان نعمتوں پر دل سے اس کی حمد و ثنا کرنا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے۔ اور ان امور کے برعکس رویہ اختیار کرنا، کفران نعمت ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجرالحجر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید