النحل

نحل

128 آیاتمکیپارہ 14

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    وَهُوَ ٱلَّذِى سَخَّرَ ٱلْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا۟ مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا۟ مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى ٱلْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

    اور دریا بھی اسی نے تمہارے بس میں کر دیے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازه گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں اور اس لیے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو.[1]

    حواشی

    [1] اس میں سمندری تلاطم خیز موجوں کو انسان کے تابع کر دینے کے بیان کے ساتھ، اس کے تین فوائد بھی ذکر کئے ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس سے مچھلی کی شکل میں تازہ گوشت کھاتے ہو (مچھلی مردہ بھی ہو تب بھی حلال ہے)۔ علاوہ ازیں حالت احرام میں بھی اس کو شکار کرنا حلال ہے۔ دوسرا، اس سے تم موتی، سیپیاں اور جواہر نکالتے ہو، جن سے تم زیور بناتے ہو۔ تیسرا، اس میں تم کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو، جن کے ذریعے سے تم ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو، تجارتی سامان بھی لاتے ہو، لے جاتے ہو، جس سے تمہیں اللہ کا فضل حاصل ہوتا ہے جس پر تمہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 14 کی تفسیر

    [14] وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ ﴾ ’’جس نے سمندر کو مسخر کیا‘‘ اور تمھارے مختلف انواع کے فوائد کے لیے اسے تیار کیا۔ ﴿ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا ﴾ ’’تاکہ کھاؤ تم اس سے تازہ گوشت‘‘ اس سے مراد مچھلی وغیرہ ہے جسے تم شکار کرتے ہو۔ ﴿ وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا﴾ ’’اور نکالو تم اس سے زیور جو تم پہنتے ہو‘‘ جو تمھارے حسن و جمال میں اضافہ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَتَرَى الْفُلْكَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو کشتیاں ‘‘ یعنی جہاز اور کشتیاں وغیرہ ﴿ مَوَاخِرَ فِیْهِ﴾ ’’چلتی ہیں اس میں پانی پھاڑ کر‘‘ یعنی موجیں مارتے ہوئے ہولناک سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی کشتیاں ایک ملک سے دوسرے ملک تک جاتی ہیں جو مسافروں ، ان کا رزق، ان کا مال اسباب اور ان کا سامان تجارت لے کر چلتی ہیں ۔ سامان تجارت سے وہ رزق اور اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں ۔ ﴿وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم شکر کرو‘‘ یعنی اس ہستی کا شکر ادا کرو جس نے تمہائے لیے یہ تمام چیزیں تیار کر کے تمھیں میسر کیں اور تم اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو جس نے تمھیں ان چیزوں سے نوازا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی شکر کا مستحق ہے اور اس کے لیے حمدوثنا ہے کیونکہ اس نے اپنے بندوں کو ان کی طلب سے زیادہ اور ان کی آرزؤں سے بڑھ کر مصالح اور فوائد عطا کیے۔ اس کی حمدوثنا کا شمار نہیں جا سکتا بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے اپنی ثناخود بیان کی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاسراءالإسراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید