النحل

نحل

128 آیاتمکیپارہ 14

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 51

    ۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَـٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ فَإِيَّـٰىَ فَٱرْهَبُونِ

    اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے[1] ، پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو.

    حواشی

    [1] کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق ہے ہی نہیں۔ اگر آسمان وزمین میں دو معبود ہوتے تو نظام عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا یہ فساد اور خرابی کا شکار ہو چکا ہوتا۔ «لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلا اللَّهُ لَفَسَدَتَا» (الأنبياء:22) اس لئے ثنویت (دو خداؤں) کا عقیدہ، جس کے مجوسی حامل رہے ہیں یا تعدد الٰہ (بہت سارے معبودوں) کا عقیدہ، جس کے اکثر مشرکین قائل رہے ہیں۔ یہ سب باطل ہیں۔ جب کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظم و نسق چلا رہا ہے تو معبود بھی صرف وہی ہے جو اکیلا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 51 کی تفسیر

    [51] اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ ﴾ ’’نہ بناؤ تم معبود دو‘‘ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ اِنَّمَا هُوَ اِلٰ٘هٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’وہ صرف ایک ہی معبود ہے‘‘ وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں ایک ہے، اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ فَاِیَّ٘ایَ فَارْهَبُوْنِ ﴾ ’’پس مجھ ہی سے ڈرو‘‘ میرے حکم کی تعمیل اور میرے نواہی سے اجتناب کرو اور میرے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ تمام مخلوق تو اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاسراءالإسراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید