النحل

نحل

128 آیاتمکیپارہ 14

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 63

    تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَعْمَـٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے[1] ، وه شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے[2] اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے.

    حواشی

    [1] جس کی وجہ سے انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی جس طرح اے پیغمبر! قریش مکہ تیری تکذیب کر رہے ہیں۔ [2] اَلْیَوْمَ سے یا تو زمانہ دنیا مراد ہے، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے، یا اس سے مراد آخرت ہے کہ وہاں بھی یہ ان کا ساتھی ہوگا۔ یا وَلِيُّهُمُ میں ”ھم“ کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ یعنی یہی شیطان جس نے پچھلی امتوں کو گمراہ کیا، آج وہ ان کفار مکہ کا دوست ہے اور انہیں تکذیب رسالت پر مجبور کر رہا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 63 کی تفسیر

    [63] اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسولe کے سامنے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو جھٹلایا گیا ہے۔ ﴿ تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے، مختلف امتوں کی طرف رسول بھیجے۔‘‘ ایسے رسول، جو انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے۔ ﴿ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّ٘یْطٰ٘نُ اَعْمَالَهُمْ ﴾ ’’پس اچھے کر کے دکھلائے ان کو شیطان نے ان کے کام‘‘ پس انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور انھوں نے یہ باطل گمان کیا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہی حق اور ہر دکھ سے نجات دینے والا ہے اور جس راستے کی طرف انبیاء و رسل بلاتے ہیں وہ اس کے برعکس ہے۔ پس جب شیطان نے ان کے سامنے ان کے اعمال مزین کر دیے ﴿ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ ﴾ ’’تو وہ آج ان کا دوست ہے‘‘ دنیا میں ۔ پس وہ اس کی اطاعت کرنے لگے اور انھوں نے اس کو اپنا دوست بنا لیا۔ ﴿ اَفَتَتَّؔخِذُوْنَهٗ وَذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْ٘سَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا﴾ (الکھف: 18؍50) ’’کیا تم اسے اور اس کی ذریت کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں اور یہ ظالموں کے لیے بہت برا بدل ہے۔‘‘ ﴿ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾ ’’اور (آخرت میں) ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ کیونکہ وہ اللہ رحمان کی دوستی سے منہ موڑ کر شیطان کی دوستی پر راضی ہو گئے۔ بنا بریں وہ رسوا کن عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاسراءالإسراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید