النحل

نحل

128 آیاتمکیپارہ 14

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 89

    وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ تِبْيَـٰنًا لِّكُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

    اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواه کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواه بنا کر ﻻئیں گے[1] اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے[2]، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے.

    حواشی

    [1] یعنی ہر نبی اپنی امت پر گواہی دے گا اور نبی اور آپ کی امت کے لوگ انبیاء کی بابت گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں، انہوں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا تھا (صحيح بخاري، تفسير سورة النساء) [2] کتاب سے مراد اللہ کی کتاب اور نبی کی تشریحات (احادیث) ہیں۔ اپنی احادیث کو بھی اللہ کے رسول نے " کتاب اللہ " قرار دیا ہے۔ جیسا کہ قصہ عسیف وغیرہ میں ہے (ملاحظہ ہو صحيح بخاري ، كتاب المحاربين باب هل يأمر الإمام رجلا فيضرب الحد غائبا عنه ، كتاب الصلاة باب ذكر البيع والشراء على المنبر في المسجد)اور ہرچیز کا مطلب ہے، ماضی اور مستقبل کی خبریں جن کا علم ضروری اور مفید ہے، اسی طرح حرام و حلال کی تفصیلات اور وہ باتیں جن کے دین و دنیا اور معاش و معاد کے معاملات میں انسان محتاج ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں یہ سب چیزیں واضح کر دی گئی ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 89 کی تفسیر

    [89] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امت میں ایک گواہ کھڑاکرے گا۔ ﴿ فِیْ كُ٘لِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ﴾ یہاں بھی گواہ کھڑا کرنے کا ذکر کیا ہے اور رسول کریمe کے گواہ ہونے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’اور لائیں گے ہم آپ کو ان پر گواہ‘‘ یعنی آپe اپنی امت کے خیروشر پر گواہ ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال عدل ہے کہ ہر رسول اپنی امت پر گواہی دے گا کیونکہ وہ اپنی امت کے اعمال کے بارے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ اطلاع رکھتا ہے، وہ اتنا عادل اور اپنی امت کے بارے میں اتنا شفیق ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں صرف اسی چیز کی گواہی دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰؔكُمْ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُ٘وْ٘نُوْا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُ٘وْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا﴾ (البقرۃ:2؍ 143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول(e) تم پر گواہی دیں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ﴿ فَكَـیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُ٘لِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا ۰۰یَوْمَىِٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ ﴾ (النساء:4؍4 1۔42) ’’اس وقت ان کا کیسا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر آپ کو گواہ بنائیں گے۔ اس روز کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین میں سما جائیں اور ان پر مٹی برابر کر دی جائے۔‘‘ ﴿ وَنَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّ٘كُ٘لِّ شَیْءٍ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ پر کتاب، کھلا بیان ہر چیز کا‘‘ دین کے اصول و فروع، دنیا و آخرت کے احکام اور ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہیں اس کتاب میں واضح الفاظ و معانی کے ساتھ مکمل طور پر بیان کر دی گئی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کریم میں بڑے بڑے امور کو بتکرار بیان کرتا ہے جن کے بارے میں قلب کو ہر وقت اور ہر گھڑی تکرار اور بار بار دہرانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان امور کا مختلف عبارات اور متنوع دلائل کے ساتھ اعادہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ دلوں کی گہرائی میں اتر کر اچھی طرح جاگزیں ہو جائیں ۔ پس یہ دل میں جس طرح راسخ ہوتے ہیں اس کے مطابق خیروشر کی صورت میں ثمرات حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نہایت قلیل اور واضح الفاظ میں بہت سے معانی جمع کر دیتا ہے، الفاظ ان معانی کے لیے بنیاد اور اساس کا کام دیتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے بعد آنے والی آیت اور اس میں جو اوامرونواہی ہیں ، جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا، اس پر غور کریں تو یہ نکتہ واضح ہوجائے گا۔ چونکہ یہ قرآن عظیم ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اس لیے تمام انسانوں پر حجت ہے۔ اس کے خلاف ظالموں کی حجت منقطع ہو گئی۔ مسلمانوں نے اس سے استفادہ کیا اور وہ ان کے لیے راہ نما بن گیا۔ وہ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں ۔ وہ ان کے لیے رحمت ہے جس کے ذریعے سے وہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے ذریعے سے جو وہ علم نافع اور عمل صالح حاصل کرتے ہیں ، وہی ہدایت ہے۔ دنیا و آخرت کا جو ثواب اس پر مترتب ہوتا ہے، مثلاً:اصلاح قلب، اطمینان قلب اور نیکی وغیرہ، وہی رحمت ہے۔ قرآن عظیم کے معانی کے مطابق، جو کہ بلندترین معانی ہیں … تربیت کے بغیر عقل کی تکمیل نہیں ہوتی… اس کے معانی کے مطابق تربیت کے بغیر اعمال کریمہ، اخلاق فاضلہ، رزق کشادہ، قول و فعل کے ذریعے سے دشمنوں پر فتح و نصرت، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی عزت و اکرام والی جنت حاصل نہیں ہوتی جس میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہیں جن کو رب رحیم کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 89 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاسراءالإسراء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید