الإسراء

اسراء

111 آیاتمکیپارہ 15

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 110

    قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْمَـٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَٱبْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

    کہہ دیجئیے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں[1] ۔ نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیده بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرلے.[2]

    حواشی

    [1] جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ کے لئے اللہ کا صفتی نام ”رحمٰن“ یا ”رحیم“ نامانوس تھا اور بعض آثار میں آتا ہے کہ بعض مشرکین نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے یا رحمٰن و رحیم کے الفاظ سنے تو کہا کہ ہمیں تو یہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو اور خود دو معبودوں کو پکار رہا ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) [2] اس کی شان نزول میں حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) بیان فرماتے ہیں کہ مکے میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) چھپ کر رہتے تھے، جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو آواز قدرے بلند فرما لیتے، مشرکین قرآن سن کر قرآن کو اور اللہ کو گالی گلوچ کرتے، اللہ تعالٰی نے فرمایا، اپنی آواز کو اتنا اونچا نہ کرو کہ مشرکین سن کر قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ آواز اتنی پست کرو کہ صحابہ (رضي الله عنهم) بھی نہ سن سکیں( البخاري- التوحيد، باب قول الله تعالى أنزله بعلمه والملائكة يشهدون- ومسلم، الصلاة، باب التوسط في القراءة )، خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کا واقعہ ہے کہ ایک رات نبی (صلى الله عليه وسلم) کا گزر حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) کی طرف سے ہوا تو وہ پست آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں، پھر حضرت عمر (رضي الله عنه) کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا تو وہ اونچی آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے دونوں سے پوچھا تو حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه)نے فرمایا میں جس سے مصروف مناجات تھا، وہ میری آواز سن رہا تھا، حضرت عمر (رضي الله عنه) نے جواب دیا کہ میرا مقصد سوتوں کو جگانا اور شیطان کو بھگانا تھا۔ آپ نے صدیق اکبر (رضي الله عنه) سے فرمایا ”اپنی آواز قدرے بلند کرو“ اور حضرت عمر (رضي الله عنه) سے کہا ”اپنی آواز کچھ پست رکھو“ ( مشكاة باب صلاة الليل، بحواله أبو داود ترمذي )۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (بخاری و مسلم، بحوالہ فتح القدیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 110 کی تفسیر

    [110] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے: ﴿ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ﴾ ’’تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمن کو‘‘ یعنی ان دونوں ناموں میں سے چاہے جس نام سے پکارو ﴿ اَ یًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰؔى ﴾ ’’جو کہہ کر پکارو گے، پس اسی کے ہیں سب نام اچھے‘‘ یعنی اس کا کوئی اسم مبارک ایسا نہیں جو اچھا نہ ہو اور اس کو اس نام سے پکارنے سے روکا گیا ہو۔ تم جس نام سے بھی اسے پکارو گے اس سے مقصد حاصل ہو جائے گا۔ مگر مناسب یہی ہے کہ اسے ہر مطلوب کی مناسبت سے، مطلوب کے مطابق نام سے پکارا جائے۔ ﴿ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ ﴾ ’’اور پکار کر نہ پڑھیں اپنی نماز‘‘ یعنی بہت بلند آواز سے قراء ت نہ کیجیے ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا ﴾ ’’اور نہ چپکے سے پڑھیں ‘‘ یعنی ان دونوں امور سے بچا جانا چاہیے۔ زیادہ بلند آواز میں قراء ت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجید سن کر برا بھلا کہیں گے اور قرآن لانے والے کو سب و شتم کا نشانہ بنائیں گے اور بہت نیچی آواز میں قرآن پڑھنے سے اس شخص کا مقصد پورا نہ ہو سکے گا جو دھیمی آواز میں قرآن سننا چاہتا ہے۔ ﴿ وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا﴾ ’’اور ڈھونڈ لیں اس کے درمیان راستہ‘‘ یعنی بہت زیادہ بلند آواز اور بہت زیادہ پست آواز کے بین بین اور ان دونوں کے درمیان متوسط راہ اختیار کیجیے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 110 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتکہفالكهف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید