الإسراء

اسراء

111 آیاتمکیپارہ 15

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 52

    يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا

    جس دن وه تمہیں[1] بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے.[2]

    حواشی

    [1] ”بلائے گا“ کا مطلب ہے قبروں سے زندہ کر کے اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے یا اسے پہچانتے ہوئے اس کے پاس حاضر ہو جاؤ گے۔ [2] وہاں یہ دنیا کی زندگی بالکل تھوڑی معلوم ہوگی۔ «كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا»۔ (النازعات:46) ۔ ”جب قیامت کو دیکھ لیں گے، تو دنیا کی زندگی انہیں ایسے لگے گی گویا اس میں ایک شام یا ایک صبح رہے ہیں“، اسی مضمون کو دیگر مقامات میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ طہٰ102، 104۔ الروم 55۔ المؤمنون 112، 114۔ بعض کہتے ہیں کہ پہلا نفخہ ہوگا تو سب مردے قبروں میں زندہ ہو جائیں گے۔ پھر دوسرے نفخے پر میدان محشر میں حساب کتاب کے لئے اکٹھے ہونگے۔ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا اور اس فاصلے میں انہیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا، وہ سو جائیں گے۔ دوسرے صور پر اٹھیں گے تو کہیں گے ”افسوس، ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایاہے؟“ (سورۂ یس:52) (فتح القدیر) پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 52 کی تفسیر

    [52] ﴿ یَوْمَ یَدْعُوْؔكُمْ ﴾ ’’جس دن وہ تم کو پکارے گا‘‘ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ ﴾ ’’پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے‘‘ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمْدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا﴾ ’’اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں ) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو‘‘ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں ۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں ۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰى هُوَ﴾ ’’قیامت کا دن کب ہو گا؟‘‘ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا : ﴿ هٰؔذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ﴾ (المطففین : 83؍17) ’’یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتکہفالكهف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید