الكهف

کہف

110 آیاتمکیپارہ 15

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 77

    فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهْلَ قَرْيَةٍ ٱسْتَطْعَمَآ أَهْلَهَا فَأَبَوْا۟ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا

    پھر دونوں چلے ایک گاؤں والوں کے پاس آکر ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا[1] ، دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گراہی چاہتی تھی، اس نے اسے ٹھیک اور درست [2]کر دیا، موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے.[3]

    حواشی

    [1] یعنی یہ بخیلوں کی بستی تھی کہ مہمانوں کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا، دراں حالیکہ مسافروں کو کھانا کھلانا اور مہمان نوازی کرنا ہر شریعت کی اخلاقی تعلیمات کا اہم حصہ رہا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی مہمان نوازی اور اکرام ضیف کو ایمان کا تقاضا قرار دیا ہے۔ فرمایا :«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ» (فيض القدير شرح الجامع الصغير: 5/209) ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت وتکریم کرے“۔ [2] حضرت خضر نے اس دیوار کو ہاتھ لگایا اور اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر سیدھی ہوگئی۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت سے واضح ہے۔ [3] حضرت موسیٰ (عليه السلام)، جو اہل بستی کے رویے سے پہلے ہی کبیدہ خاطر تھے، حضرت خضر کے بلا معاوضہ احسان پر خاموش نہ رہ سکے اور بول پڑے کہ جب ان بستی والوں نے ہماری مسافرت، ضرورت مندی اور شرف وفضل کسی چیز کا بھی لحاظ نہیں کیا تو یہ لوگ کب اس لائق ہیں کہ ان کے ساتھ احسان کیا جائے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 77 کی تفسیر

    [77] ﴿ فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَ٘رْیَةِنِ اسْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًؔا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَ٘ضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّؔخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 77 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمریممريم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید