الكهف

کہف

110 آیاتمکیپارہ 15

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 98

    قَالَ هَـٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّى ۖ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّى جَعَلَهُۥ دَكَّآءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّى حَقًّا

    کہا یہ صرف میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعده آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا[1] ، بیشک میرے رب کا وعده سچا اور حق ہے.

    حواشی

    [1] یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنا دی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آ جائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر 3346 و مسلم، نمبر2208) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل ان شا اللہ اسکو کھو دیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ زمین میں فساد پھیلائیں گے حتٰی کے لوگ قلعہ بند ہو جائیں گے، یہ آسمانوں پر تیر پھینکیں گے جو خون آلودہ لوٹیں گے، بالآخر اللہ تعالٰی ان کی گدیوں پر ایسا کیڑا پیدا فرما دے گا جس سے ان کی ہلاکت واقع ہو جائے گی۔ (مسند أحمد 12/ 511، جامع ترمذي نمبر 3153، والأحاديث الصحيحة للألباني، نمبر1735) صحیح مسلم میں نواس بن سمعان (رضي الله عنه) کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج و ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا۔( كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب ذكر الدجال) جس سے ان حضرات کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ، یا منگول ترک جن میں چنگیز بھی تھا یا روسی یا چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا۔ یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں کیونکہ ان کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل وغارت گری اور شرو وفساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 98 کی تفسیر

    [98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا: ﴿ هٰؔذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ ﴾ (النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ ﴾ (القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 98 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمریممريم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید