مريم

مریم

98 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 26

    فَكُلِى وَٱشْرَبِى وَقَرِّى عَيْنًا ۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ ٱلْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِىٓ إِنِّى نَذَرْتُ لِلرَّحْمَـٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ ٱلْيَوْمَ إِنسِيًّا

    اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ[1] ، اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ[2] دینا کہ میں نے اللہ رحمنٰ کے نام کا روزه مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی.

    حواشی

    [1] یعنی کھجوریں کھا، چشمے کا پانی پی اور بچے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر۔ [2] یہ کہنا بھی اشارے سے تھا، زبان سے نہیں، علاوہ ازیں ان کے ہاں روزے کا مطلب ہی کھانے اور بولنے سے پرہیز ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 کی تفسیر

    [26] ﴿ فَكُلِیْ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشْ٘رَبِیْ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَ٘رِّیْ عَیْنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں : ﴿ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَ٘نْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطہطه

غلطی کی اطلاع دیں

مزید