مريم

مریم

98 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 39

    وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

    تو انہیں اس رنج وافسوس کے دن[1] کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا[2]، اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے.

    حواشی

    [1] روز قیامت کو یوم حسرت کہا، اس لئے کہ اس روز سب ہی حسرت کریں گے۔ بدکار حسرت کریں گے کہ کاش انہوں نے برائیاں نہ کی ہوتیں اور نیکوکار اس بات پر حسرت کریں گے کہ انہوں نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہیں کمائیں؟۔ [2] یعنی حساب کتاب کر کے صحیفے لپیٹ دیئے جائیں گے اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس کے بعد موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا، جنتیوں اور دوزخیوں دونوں سے پوچھا جائے گا، اسے پہچانتے ہو، یہ کیا ہے؟ وہ کہیں گے، ہاں یہ موت ہے پھر ان کے سامنے اسے ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ اہل جنت! تمہارے لئے جنت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے، اب موت نہیں آئے گی۔ دوزخیوں سے کہا جائے گا۔ اے دوزخیو! تمہارے لئے دوزخ کا عذاب دائمی ہے۔ اب موت نہیں آئے گی (صحيح بخاري- سورة مريم، ومسلم، كتاب الجنة، باب النار يدخلها الجبارون .....)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 39 - 40 کی تفسیر

    [40,39] کسی خوفناک معاملے میں ، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا ’’انذار‘‘ ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ ’’حسرت کا دن‘‘ ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین وآخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہو گا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ پس اس وقت حسرت اور ندامت سے دل پارہ پارہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت سے محرومی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم کے استحقاق سے بڑھ کر کون سی حسرت ہو سکتی ہے، جہاں دوبارہ عمل کرنے کے لیے واپسی ممکن نہ ہو اور دنیا میں دوبارہ آ کر اپنے احوال کے بدلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ یہ سب کچھ انھیں پیش آئے گا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس عظیم معاملے کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، اس کے بارے میں انھیں کبھی خیال ہی نہیں آیا اور اگر انھیں کبھی خیال آیا بھی ہے تو وہ بھی غفلت میں ۔ غفلت نے ان کو گھیر رکھا ہے اور مدہوشی ان پر غالب ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کے رسولوں کی اتباع کرتے ہیں ۔ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان ختم ہو جانے والی فانی شہوات حائل ہو گئیں ۔ یہ دنیا اور اول سے لے کر آخر تک دنیا کی تمام چیزیں دنیا داروں کوچھوڑ جائیں گی اور وہ دنیا کو چھوڑ کر چل دیں گے اور زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا وارث اللہ تعالیٰ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی طرف لوٹائے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ وہ ان اعمال میں خسارہ اٹھائیں گے یا نفع میں رہیں گے، لہٰذا جو کوئی نیک کام کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی حمدوستائش کرنی چاہیے اور جس کے اعمال اس سے مختلف ہیں اسے اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 39 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطہطه

غلطی کی اطلاع دیں

مزید