مريم

مریم

98 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 64

    وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۖ لَهُۥ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا

    ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے[1] ، ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اسی کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے واﻻ نہیں.

    حواشی

    [1] نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ایک مرتبہ جبرائیل (عليه السلام) سے زیادہ اور جلدی جلدی ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی جس پر یہ آیت اتری (صحیح بخاری)، تفسیر سورہ مریم)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 64 کی تفسیر

    [64] ایک دفعہ جبریل u رسول اللہe پر دیر سے نازل ہوئے آپe نے جبریلu سے فرمایا ’’آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں ، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ آپ نے یہ بات جبریلu کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبریلu کی زبانی فرمایا: ﴿ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں ‘‘ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ﴾ (التحریم:66؍6) ’’اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ ہم تو مامور و محکوم بندے ہیں ۔ ﴿ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان میں ہے۔‘‘ یعنی وہی ہے جو ہر زمان و مکاں میں ، امور ماضی، امور حاضر اور امور مستقبل کا مالک ہے اور جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ اختیار میں ہیں تو ہم محض اس کے بندے اور اس کی دست تدبیر کے تحت ہیں ، اس لیے تمام معاملہ ان دو باتوں کے مابین ہے۔ ۱۔ آیا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ اسے نافذ فرمائے؟ ۲۔ یا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اسے مؤخر کر دے؟ اس لیے فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّا﴾ ’’اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب آپ کو فراموش کر کے مہمل نہیں چھوڑے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَ٘لٰى﴾ (الضحیٰ:93؍3) ’’آپ(e) کے رب نے آپe کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے ناراض ہے۔‘‘ بلکہ وہ اپنے بہترین قوانین جمیلہ اور تدابیر جلیلہ کے مطابق، آپ کے لیے احکام جاری کرتے ہوئے آپ کے تمام امور کو درخور اعتنا رکھتا ہے، یعنی جب ہم وقت معتاد سے تاخیر سے نازل ہوتے ہیں تو یہ چیز آپ(e) کو غمزدہ نہ کرے اور آپ(e) کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاخیر کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 64 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطہطه

غلطی کی اطلاع دیں

مزید