البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 107

    أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلَا نَصِيرٍ

    کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے[1] اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔

    حواشی

    [1] نسخ کے لغوی معنی تو نقل کرنے کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں ایک حکم کو بدل کر دوسرا حکم نازل کرنے کے ہیں۔ یہ نسخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے۔ جیسے آدم (عليه السلام) کے زمانے میں سگے بہن بھائیوں کا آپس میں نکاح جائز تھا، بعد میں اسے حرام کردیا گیا، وغیرہ اسی طرح قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض احکام منسوخ فرمائے اور ان کی جگہ نیا حکم نازل فرمایا۔ ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ شاہ ولی اللہ نے ”الفوزالکبیر“ میں ان کی تعداد صرف پانچ بیان کی ہے۔ یہ نسخ تین قسم کا ہے۔ ایک تو مطلقاً نسخ حکم یعنی ایک کو بدل کر دوسرا حکم نازل کردیا گیا۔ دوسرا ہے نسخ مع التلاوۂ۔ یعنی پہلے حکم کے الفاظ قرآن مجید میں موجود رکھے گئے ہیں، ان کی تلاوت ہوتی ہے لیکن دوسرا حکم بھی، جو بعد میں نازل کیا گیا، قرآن میں موجود ہے، یعنی ناسخ اور منسوخ دونوں آیات موجود ہیں۔ نسخ کی ایک تیسری قسم یہ ہے کہ ان کی تلاوت منسوخ کردی گئی۔ یعنی قرآن کریم میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں شامل نہیں فرمایا، لیکن ان کا حکم باقی رکھا گیا۔ جیسے «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ»۔ (موطا امام مالک) ”شادی شدہ مرد اور عورت اگر زنا کا ارتکاب کریں تو یقیناً انہیں سنگسار کردیا جائے۔“ اس آیت میں نسخ کی پہلی دو قسموں کا بیان ہے «مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ» میں دوسری قسم اور «أَوْ نُنْسِهَا» میں پہلی قسم۔ «نُنْسِهَا» ”ہم بھلوادیتے ہیں“ کا مطلب ہے کہ اس کا حکم اور تلاوت دونوں اٹھا لیتے ہیں۔ گویا کہ ہم نے اسے بھلا دیا اور نیا حکم نازل کردیا۔ یا نبی (صلى الله عليه وسلم) کے قلب سے ہی ہم نے اسے مٹا دیا اور اسے نسیاً منسیا کردیا گیا۔ یہودی تورات کو ناقابل نسخ قرار دیتے تھے اور قرآن پر بھی انہوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا کہ زمین وآسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھے کرے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت وحکمت کے مطابق ہو، اسے نافذ کرے اور جسے چاہے منسوخ کردے۔ یہ اس کی قدرت ہی کا ایک مظاہرہ ہے۔ بعض قدیم گمراہوں (مثلاً ابومسلم اصفہانی معتزلی) اور آج کل کے بھی بعض متجددین نے یہودیوں کی طرح قرآن میں نسخ ماننے سے انکار کیا ہے۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو مذکورہ سطروں میں بیان کی گئی ہے، سلف صالحین کا عقیدہ بھی اثبات نسخ ہی رہا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 107 کی تفسیر

    [107] فرمایا: ﴿ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۰۰اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے‘‘ جب اللہ تعالیٰ تمھارا مالک ہے وہ تمھارے اندر اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے نیکوکار، مہربان آقا اپنی اقدار میں، اپنے احکام میں اور اپنے نواہی میں تصرف کرتا ہے۔ پس جیسے اس پر اپنے بندوں کی بابت تقدیری فیصلے کرنے پر پابندی نہیں ہے اسی طرح اللہ پر ان احکام کے بارے میں بھی اعتراض صحیح نہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں۔ پس بندہ اپنے رب کے امر دینی اور امر تکوینی کا پابند ہے، اسے اعتراض کا کیا حق ہے؟۔ نیز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ولی (کارساز) اور ان کا مددگار ہے۔ پس وہ ان کے لیے منفعت کے حصول میں ان کا والی اور سرپرست ہے۔ اور ضرر کو ان سے دور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (کارسازی) کا حصہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ایسے احکام مشروع کیے، جن کا تقاضا اس کی حکمت اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کرتی ہے۔ جو کوئی اس نسخ میں غور کرتا ہے جو قرآن و سنت میں واقع ہوا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی حکمت ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے اور اپنے لطف و کرم سے انھیں ان کے مصالح تک ایسے طریقے سے پہنچانا ہے کہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 107 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید