البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

    اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے[1] اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔

    حواشی

    [1] ”اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے“ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ جس طرح مسلمانوں کے ساتھ استہزا واستخفاف کا معاملہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا ہی معاملہ کرتے ہوئے انہیں ذلت وادبار میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کو استہزا سے تعبیر کرنا، زبان کا اسلوب ہے، ورنہ حقیقتاً یہ استہزا نہیں ہے، ان کے فعل استہزا کی سزا ہے جیسے «وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَا» (الشورى- 40) ”برائی کا بدلہ، اسی کی مثل برائی ہے“ میں برائی کے بدلے کو برائی کہا گیا ہے حالانکہ وہ برائی نہیں ہے ایک جائز فعل ہے۔ اسی طرح «يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ»، «وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ» وغیرہ آیات میں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بھی ان سے استہزا فرمائے گا۔ جیسا کہ سورۂ حدید کی آیت «يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ» الآية میں وضاحت ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 کی تفسیر

    [15] ﴿اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ٘ بِهِمْ وَیَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَؔ﴾ ’’اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ استہزا ان کے اس استہزا کی جزا ہے جو وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا یہ ہے کہ وہ ان کے بدبختی کے اعمال اور خبیث احوال کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کر دیتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان پر مسلط نہیں کیا اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہیں۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا یہ ہوگا کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ انھیں ظاہری روشنی عطا کرے گا۔ جب اہل ایمان اس روشنی میں چلیں گے تو منافقین کی روشنی بجھ جائے گی۔ وہ روشنی کے بجھ جانے کے بعد تاریکی میں متحیر کھڑے رہ جائیں گے۔ پس امید کے بعد مایوسی کتنی بری چیز ہے۔ ﴿یُنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ﴾ (الحدید:57؍14) ’’وہ منافق اہل ایمان کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہ تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم ہمارے بارے میں کسی برے وقت کے منتظر رہے اور تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا۔‘‘ ﴿وَیَمُدُّھُمْ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ کرتا ہے ﴿فِیْ طُغْیَانِھِمْ﴾ یعنی ان کے فسق و فجور اور کفر میں ﴿یَعْمَھُوْنَ﴾ یعنی وہ حیران و سرگرداں ہیں، یہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید