البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 191

    وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَـٰتِلُوهُمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَـٰتَلُوكُمْ فَٱقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ

    انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکاﻻ ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے[1] اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو[2] کافروں کا بدلہ یہی ہے۔

    حواشی

    [1] مکہ میں مسلمان چوں کہ کمزور اور منتشر تھے، اس لئے کفار سے قتال ممنوع تھا، ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ساری قوت مدینہ میں مجتمع ہوگئی تو پھر ان کو جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ ابتداء میں آپ صرف ان ہی سے لڑتے جو مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کرتے، اس کے بعد اس میں مزید توسیع کردی گئی اور مسلمانوں نے حسب ضرورت کفار کے علاقوں میں بھی جا کر جہاد کیا۔ قرآن کریم نے«اعْتِدَاءٌ» (زیادتی کرنے) سے منع فرمایا، اس لئے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے اپنے لشکر کو تاکید فرماتے کہ خیانت، بدعہدی اور مثلہ نہ کرنا، نہ بچوں، عورتوں اور گرجوں میں مصروف عبادت درویشوں کو قتل کرنا۔ اسی طرح درختوں کے جلانے اور حیوانات کو بغیر کسی مصلحت کے مارنے سے بھی منع فرماتے (ابن کثیر۔ بحوالہ صحیح مسلم وغیرہ) «حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ» (جہاں بھی پاؤ) کا مطلب ہے ”تَمَكَّنْتُمْ مِنْ قِتَالِهِم“ ان کو قتل کرنے کی قدرت تمہیں حاصل ہوجائے (ایسرالتفاسیر) «مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ» یعنی جس طرح کفار نے تمہیں مکہ سے نکالا تھا، اسی طرح تم بھی ان کو مکہ سے نکال باہر کرو۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد جو لوگ مسلمان نہیں ہوئے انہیں مدت معاہدہ ختم ہونے کے بعد وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ فتنہ سے مراد، کفر وشرک ہے۔ یہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے، اس لئے اس کو ختم کرنے کے لئے جہاد سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ [2] حدود حرم میں قتال منع ہے، لیکن اگر کفار اس کی حرمت کو ملحوظ نہ رکھیں اور تم سے لڑیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 191 - 192 کی تفسیر

    [191 - 192] ﴿ وَاقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ۠ ﴾ ’’اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو‘‘ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کر دیا، کیونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔ یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیں۔ (اگر وہ ایسا کر لیں) تو یقینا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مسجد حرام میں شرک کا ارتکاب کیا اور رسول اللہeاور اہل ایمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور اس کا کرم ہے، چونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنے کی ممانعت سے یہ وہم لاحق ہوتا ہے کہ یہ لڑائی اس محترم شہر کے اندر گویا فساد برپا کرنا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس حرمت والے شہر کے اندر فتنہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے دین سے لوگوں کو روکنے کے مفاسد، قتل کے مفاسد سے بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! تمھارے لیے ان کے خلاف لڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس آیت کریمہ سے فقہ کے ایک مشہور قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ دو برائیوں میں سے (جب ایک برائی کو اختیار کرنا لابدی ہو تو) کم تر برائی کو اختیار کیا جائے۔ تاکہ بڑی برائی کا سدباب کیا جا سکے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 191 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید