البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 197

    ٱلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَـٰتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِى ٱلْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا۟ فَإِنَّ خَيْرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقْوَىٰ ۚ وَٱتَّقُونِ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ

    حج کے مہینے مقرر ہیں[1] اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے[2]، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے[3] اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔

    حواشی

    [1] اور یہ ہیں شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن۔ مطلب یہ ہے کہ عمرہ تو سال میں ہر وقت جائز ہے، لیکن حج صرف مخصوص دنوں میں ہی ہوتا ہے، اس لئے اس کا احرام حج کے مہینوں کے علاوہ باندھنا جائز نہیں۔ (ابن کثیر ) مسئلہ : حج قران یا افراد کا احرام اہل مکہ، مکہ کے اندر سے ہی باندھیں گے۔ البتہ حج تمتع کی صورت میں عمرے کے احرام کے لئے حرم سے باہر حل میں جانا ان کے لئے ضروری ہے۔ (فتح الباري ، كتاب الحج وأبواب العمرة وموطأ إمام مالك) اسی طرح آفاقی لوگ حج تمتع میں ذوالحجہ کو مکہ سے ہی احرام باندھیں گے۔ البتہ بعض علما کے نزدیک اہل مکہ کو عمرے کے احرام کے لئے حدود حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے وہ ہر طرح کے حج اور عمرے کے لئے اپنی اپنی جگہ سے ہی احرام باندھ سکتے ہیں۔ تنبیہ : حافظ ابن القیم نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے قول وعمل سے صرف دو قسم کے عمرے ثابت ہیں۔ ایک وہ جو حج تمتع کے ساتھ کیا جاسکتا ہے اور دوسرا وہ عمرہ مفردہ جو ایام حج کے علاوہ صرف عمرے کی نیت سے ہی سفر کرکے کیا جائے۔ باقی حرم سے جاکر کسی قریب ترین حل سے عمرے کے لئے احرام باندھ کر آنا غیرمشروع ہے۔ (الا یہ کہ جن کے احوال وظروف حضرت عائشہ ل جیسے ہوں) (زاد المعاد ج 2 طبع جدید) نوٹ : حدود حرم سے باہر کے علاقے کو حل اور بیرون مکہ سے آنے والے حجاج کو آفاقی کہا جاتا ہے۔ [2] صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث ہے «مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمّهُ» (صحيح بخاري ، كتاب المحصر، باب قول الله عز وجل فلا رفث) ”جس نے حج کیا اور شہوانی باتوں اور فسق وفجور سے بچا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے، جیسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔“ [3] تقویٰ سے مراد یہاں سوال سے بچنا ہے، بعض لوگ بغیر زاد راہ لئے حج کے لئے گھر سے نکل پڑتے اور کہتے کہ ہمارا اللہ پر توکل ہے۔ اللہ نے توکل کے اس مفہوم کو غلط قرار دیا اور زاد راہ لینے کی تاکید فرمائی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 197 کی تفسیر

    [197] اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے ﴿ اَلْ٘حَجُّ ﴾ یعنی حج واقع ہوتا ہے ﴿ اَشْ٘هُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ﴾ ’’معلوم مہینوں (میں)۔‘‘ جو مخاطبین کے ہاں معلوم اور معروف ہیں جن کی تخصیص کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ روزوں کے لیے اس کے مہینے کے تعین کی ضرورت پیش آئی اور جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات بیان فرمائے ہیں۔ رہا حج تو یہ ملت ابراہیم کا رکن ہے جو حضرت ابراہیمuکی اولاد میں ہمیشہ سے معروف رہا ہے اور وہ لوگ حج کرتے چلے آئے ہیں۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ﴿ اَشْ٘هُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ﴾ ’’معلوم مہینے‘‘ سے مراد شوال، ذیقعد اور ذوالحج کے پہلے دس دن ہیں۔ یہی وہ مہینے ہیں جن میں غالب طور پر حج کے لیے احرام باندھا جاتا ہے۔ ﴿ فَ٘مَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْ٘حَجَّ ﴾ ’’تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے۔‘‘ یعنی جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھتا ہے، کیونکہ جو کوئی حج شروع کر دیتا ہے تو اس کا اتمام اس پر فرض ہو جاتا ہے خواہ حج نفلی ہی کیوں نہ ہو۔ اس آیت کریمہ سے امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب استدلال کرتے ہیں کہ حج کے مہینوں سے قبل حج کے لیے احرام باندھنا جائز نہیں ہے۔ میں (عبدالرحمن بن ناصر السعدی) کہتا ہوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ آیت کریمہ جمہور اہل علم کے اس مسلک پر دلالت کرتی ہے کہ حج کے مہینوں سے پہلے حج کے لیے احرام باندھنا صحیح ہے تو ایسا کہنا زیادہ قرین صحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَ٘مَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْ٘حَجَّ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ حج کی فرضیت کبھی تو مذکورہ مہینوں میں واقع ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اسے مقید نہ کرتا۔ ﴿ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ١ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْ٘حَجِّ ﴾ ’’تو دل لگی کی باتیں نہیں کرنا، نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا ہے حج میں‘‘ یعنی تم پر حج کے احرام کی تعظیم کرنا فرض ہے خاص طور پر جبکہ وہ حج کے مہینوں میں واقع ہو، لہٰذا تم پر فرض ہے کہ تم احرام حج کی ہر اس چیز سے حفاظت کرو جو احرام کو فاسد کرتی ہے یا اس کے ثواب میں کمی کر دیتی ہے، مثلاً (رَفَث) اور (رَفَث) سے مراد ہے جماع اور اس کے قولی اور فعلی مقدمات۔ خاص طور پر بیویوں کے پاس، ان کی موجودگی میں۔ (فُسُوق) سے تمام معاصی مراد ہیں اور ممنوعات احرام بھی اس میں شامل ہیں اور (جِدَال) سے مراد لڑائی، جھگڑا اور مخاصمت ہے، کیونکہ لڑائی جھگڑا شر کو جنم دیتا اور دشمنی پیدا کرتا ہے۔ حج کا مقصد اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل اور انکسار، عبادات کے ذریعے سے ممکن حد تک اس کے تقرب کا حصول اور برائیوں کے ارتکاب سے بچنا ہے، اس لیے کہ یہی وہ امور ہیں جن کی وجہ سے حج اللہ کے ہاں مقبول و مبرور ہوتا ہے اور حج مبرور کا بدلہ، جنت کے سوا کوئی نہیں۔ مذکورہ برائیاں اگرچہ ہر جگہ اور ہر وقت ممنوع ہیں تاہم حج کے ایام میں ان کی ممانعت میں شدت اور زیادہ ہو جاتی ہے اور جان لیجیے کہ صرف ترک معاصی سے تقرب الٰہی کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بھی نہ بجا لائے جائیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو بھی تم بھلائی کرتے ہو، اللہ اسے جانتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عموم کی تصریح کے لیے (مِنْ) استعمال کیا ہے، اس لیے ہر بھلائی، تقرب الٰہی کا ہر ذریعہ اور ہر عبادت اس میں شامل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہر بھلائی کو جانتا ہے۔ یہ آیت کریمہ بھلائی کے کاموں میں ترغیبکو متضمن ہے۔ خاص طور پر زمین کے ان قطعات میں جن کو شرف اور احترام میں بہت بلند مقام حاصل ہے، اس لیے یہی مناسب ہے کہ نماز، روزہ، صدقہ، طواف اور قولی و فعلی احسان کے ذریعے سے جتنی بھلائی ممکن ہو، اسے حاصل کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مبارک سفر میں زاد راہ ساتھ لینے کا حکم دیا ہے کیونکہ زاد راہ مسافر کو لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اسے لوگوں کے مال کی طرف دیکھنے اور سوال کرنے سے روک دیتا ہے۔ ضرورت سے زائد زاد راہ ساتھ لینے میں فائدہ اور ساتھی مسافروں کی اعانت ہے اور اس سے اللہ رب العالمین کے تقرب میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ زاد راہ ہے جو یہاں مراد ہے جو زندگی کو قائم رکھنے، گزر بسر کرنے اور راستے کے اخراجات کے لیے نہایت ضروری ہے۔ رہا زاد حقیقی جس کا انسان کو دنیا و آخرت میں فائدہ ہوتا ہے تو وہ تقویٰ کا زاد راہ ہے جو جنت کی طرف سفر کا زاد راہ ہے اور وہی زاد راہ ایسا ہے جو انسان کو ہمیشہ رہنے والی کامل ترین لذت اور جلیل ترین نعمت کی منزل مراد پر پہنچاتا ہے۔ جو کوئی زاد تقویٰ کو چھوڑ دیتا ہے وہ اس بنا پر اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتا ہے۔ تقویٰ سے محروم ہونا ہر برائی کا نشانہ بن جانا ہے اور وہ اہل تقویٰ کی منزل پر پہنچنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ پس یہ تقویٰ کی مدح ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عقل مند لوگوں کو ان الفاظ میں تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے: ﴿ وَاتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ ﴾ ’’اے اہل دانش! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اے سنجیدہ اور عقلمند لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس سے ڈرنا وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کا عقل انسانی حکم دیتی ہے، اور اس کو ترک کرنا جہالت اور فساد رائے کی دلیل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 197 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید