البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 250

    وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ

    جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے، ﺛابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔[1]

    حواشی

    [1] جالوت اس دشمن قوم کا کمانڈو اور سربراہ تھا جس سے طالوت اور ان کے رفقا کا مقابلہ تھا۔ یہ قوم عمالقہ تھی جو اپنے وقت کی بڑی جنگجو اور بہادر قوم سمجھی جاتی تھی۔ ان کی اسی شہرت کے پیش نظر، عین معرکہ آرائی کے وقت اہل ایمان نے بارگاہ الٰہی میں صبروثبات اور کفر کے مقابلے میں ایمان کی فتح وکامیابی کی دعا مانگی۔ گویا مادی اسباب کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نصرت الٰہی کے لئے ایسے موقعوں پر بطور خاص طلبگار رہیں، جیسے جنگ بدر میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نہایت الحاح وزاری سے فتح ونصرت کی دعائیں مانگیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور مسلمانوں کی ایک نہایت قلیل تعداد کافروں کی بڑی تعداد پر غالب آئی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 249 - 250 کی تفسیر

    [250,249] جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کون کون ہے؟ چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَ٘مَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَ٘لَ٘یْسَ مِنِّیْ ﴾ ’’سنو! اللہ تعالیٰ تمھیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔‘‘ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بے صبری اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے۔ ﴿ وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ ﴾ ’’اور جو اسے نہ چکھے‘‘ یعنی اس کا پانی نہ پیے۔ وہ میرا ہے۔ ﴿ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُ٘رْفَةًۢ بِیَدِهٖ ﴾ ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے۔‘‘ اسے کوئی گناہ نہیں۔ اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس میں برکت ڈال دے کہ وہ اس کے لیے کافی ہوجائے۔ اس امتحان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پانی تھوڑا رہ گیا تھا، تاکہ آزمائش ہوسکے۔ اکثر نے نافرمانی کرتے ہوئے اتنا پانی پی لیا، جتنا پینے کی انھیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔ چنانچہ یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جہاد کرنے سے بھی پہلوتہی کرگئے۔ ان کا گھڑی بھر پانی سے صبر نہ کرسکنا بہت بڑی دلیل تھی کہ وہ جنگ میں بھی صبر نہ کرسکیں گے، جو طویل بھی ہوسکتی ہے اور پر مشقت بھی۔ ان کے اس طرح پلٹ جانے سے باقی لشکر میں اللہ پر اعتماد، اللہ کے سامنے عجزو نیاز اور اپنی طاقت پر گھمنڈ سے اجتناب جیسی کیفیات اور زیادہ ہوگئیں وہ اپنی قلت اور دشمن کی کثرت کو دیکھ کر مزید ثابت قدم ہوگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمَّؔا جَاوَزَهٗ ﴾ ’’جب وہ نہر سے گزر گیا‘‘ ﴿ هُوَ ﴾ ’’وہ طالوت‘‘ ﴿ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ﴾ ’’مومنین سمیت‘‘ جنھوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جائز حد سے زیادہ پانی نہیں پیا تھا۔ تو فوج کے اکثر لوگ اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت دیکھ کر کہنے لگے: ﴿ لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ ﴾ ’’آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں۔‘‘ کیونکہ ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور اسلحہ بھی۔ ﴿ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰ٘قُوا اللّٰهِ ﴾ ’’لیکن اللہ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا‘‘ جو پختہ ایمان کے حامل تھے، انھوں نے دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے، انھیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ﴿ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِـاِذْنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بسا اوقات چھوٹی اورتھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے‘‘ یعنی اس کے ارادہ اور مشیت سے ۔’’غلبہ پالیتی ہیں۔‘‘ کیونکہ معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عزت اور ذلت اس کے دینے سے ملتی ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر کثرت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس کی مدد حاصل ہو تو قلت سے کوئی نقصان نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِیْنَ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ اس کی مدد اور توفیق انھیں حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کی مدد حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ بندے کا اللہ کی رضا کے لیے صبر کرنا ہے۔ ان کی نصیحت کا کم ہمتوں پر بہت اچھا اثر ہوا، اس لیے جب وہ جالوت کے مقابلے میں آئے تو ان سب نے دعا مانگی: ﴿ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا ﴾ ’’اے پروردگار! ہمیں صبر دے۔‘‘ یعنی دل مضبوط کردے۔ ہمیں صبر کی توفیق دے۔ ﴿وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا ﴾ ’’اور ثابت قدمی دے۔‘‘ کہ ہمارے قدموں میں لغزش نہ آئے، ہم بھاگنے کی غلطی سے محفوظ رہیں۔ ﴿ وَانْ٘صُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْ٘كٰفِرِیْنَ﴾ ’’اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جالوت اور اس کی قوم کافر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی، کیونکہ انھوں نے قبولیت کے اسباب مہیا کرلیے تھے۔ اللہ نے ان کی مدد فرمائی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 250 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید